نماز کے مسائل

بعداذان مسجد سے نکلنا کیساہے؟

فتویٰ نمبر:۱۲

کیا فرماتے ہیں علماے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میںکہ کوئی فجر کی اذان دے اور اس کا گھرقریب میں ہو تو وہ اذان دے کرگھرجا کرکام کرسکتاہے؟اورپھرجماعت ہونے کے وقت حاضر ہوجائے تو کیا یہ درست ہے ؟جواب عنایت فرماکرشکریہ کا موقع فراہم کریں؟
المستفتی:غلام ازہری رضااسمٰعیلی
مسلم پورہ،کٹواں ،بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسئولہ میں جبکہ شامل جماعت ہونے کامکمل ارادہ ہو تو بعد اذان بھی مسجد سے نکلنے کی اجازت ہوسکتی ہے،ردالمحتار میں ہے:’’لوکانت الجماعۃ یؤخرون لدخول الوقت المستحب کالصبح مثلا فخرج ثم رجع وصلی معھم ینبغی ان لایکرہ ،ولم ارہ کلہ منقولا۔انتھی،وجزم بذلک کلہ فی النھرلدلالۃ کلامھم علیہ‘‘(ج:۲،ص:۵۰۸)’’ھکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی الدرمن البحرایضا‘‘(ج:۲،صـ:۴۶۱)۔واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۲؍جمای الاولیٰ ۱۴۴۵ھ؍۲۷؍نومبر ۲۰۲۳ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے