فتویٰ نمبر:۲۹
کیا فرماتے ہیںعلمائےدین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک خطیب نے جمعہ میں دورانِ تقریرخطاب فرمایا کہ آپ لوگ نماز پڑھیے اگر چہ ایک ہی وقت ہوتاکہ رفتہ رفتہ عادت پڑ جائے،کیا ایسا کہنا شرعاً درست ہے ؟اگر نہیں تو کہنے والے خطیب کے لیے کیا حکم ہے ،شریعت مطہرہ کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں،عین نوازش ہوگی ۔
المستفتی:نعیم الدین، لَلّہ پورہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
نماز اہم واعظم عبادت ہے ،قرآن وحدیث میں جا بجا اس کے پڑھنے کی تاکید اور چھوڑنے پر سخت وشدیدوعیدیں وارد ہیں،قرآن حکیم میں فرمایا:’’مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ‘‘ترجمہ :تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔(کنزالایمان،المدثر،۴۲،ص:۱۰۶۸)،صورت مسئولہ میں بیان کردہ خطیب کا جملہ نماز کی ترغیب کو بیان مراد کررہا ہے ،مگراس کے باوجود ترغیب وتحریض کا ایسا طریقہ جس میں تاویل وبیان کی حاجت ہواس سے احتراز کرناچاہیے،واللہ تعالیٰ اعلم۔
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۲؍ذی القعدہ۱۴۴۴ھ۱۲؍جون۲۰۲۳ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
