موت کا بیان

قبرمیں شجرہ شریف اورعہدنامہ وغیرہ رکھناکیسا؟

فتویٰ نمبر:۲۷

کیا فرماتے ہیںعلمائےدین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ تدفین کے وقت قبرمیں شجرہ شریف اورعہدنامہ وغیرہ رکھنامناسب ودرست ہے یانہیں ؟قران وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب مرحمت فرمائیں عین کرم ہوگا۔

المستفتی:انوارالحق
برئی پور کندوا،چتئی پوروارانسی

الجواب بعون الملک الوھاب
قبرمیں شجرہ شریف یاعہد نامہ وغیرہ رکھناجائز ودرست ہے اوربہتریہ ہے کہ میت کے منھ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں،درمختارمیں ہے:’’کتب علی جبھۃ المیت أ و عمامتہ أوکفنہ عھدنامہ ترجی أن یغفر اللہ للمیت‘‘(ج:۳،ص:۱۵۶)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:’’جب خود کفن پر ادعیہ وغیرہ تبرکا لکھنے کا جواز فقہاوحدیثا ثابت ہے توشجرہ شریف رکھنابھی بداہۃ اس باب سے ہے‘‘(ج:۷،ص:۵۲)بہارشریعت میں ہے:’’شجرہ یاعہد نامہ قبرمیں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میت کے منھ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کراس میں رکھیں‘‘(ج:۱،ص:۸۴۸)۔واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۷؍ذی القعدۃ۱۴۴۴ھ؍۲۸؍مئی ۲۰۲۳ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے