فتویٰ نمبر:۵۳
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ ٹب یا بھگونے وغیرہ میں نل سے پانی گر رہا ہو اور ٹب بھر کر بہ رہا ہو تو اس میں ہاتھ ڈال کر وضو کرنا کیسا ہے کیا اس طرح وضو ہو جائے گا؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں۔
المستفتی: غلام ازہری رضا اسماعیلی،کٹواں مسلم پورہ، بنارس( یو پی )
الجواب بعون الملک الوہاب
مذکورہ صورت میں جبکہ وہ ٹب یا بھگونا پانی سے بھر کر گرنے لگ گیا تو وہ ماء جاری ہوگیا۔اور ماء جاری ہاتھ خواہ کوئی پاک عضو ڈال دینے سے مستعمل نہیں ہوجاتا، اور جبکہ وہ مستعمل نہ ہوا تو اس سے وضو وغیرہ جائز و درست رہا۔درمختار میں ہے:’’ ثم المختارطهارة المتنجس بمجرد جريانه وكذا البئر وحوض الحمام‘‘ ردالمحتار میں:’’ بمجرد جریانه ‘‘ کے تحت فرمایا ’’بأن يدخل من جانب ويخرج من آخرحال دخوله وإن قل الخارج.بحر. قال ابن الشحنة:لأنه صار جاريا حقيقة‘‘ نیز اسی میں ہے: ’’ وعلي هذا حوض الحمام أو الأواني إذا تنجس. مقتضاه أنه علي القول الصحيح تطهر الأواني بمجردالجريان. وقد علل في البدائع هذالقول بأنه صار ماءجاريا ولم نستيقن ببقاءالنجاسة فيه، فاتضح الحكم ولله الحمد. وبقي شي أخر سئلت عنه، وهو أن دلوا تنجس فأفرغ فيه رجل ماء حتي إمتلأ وسال من جوانبه هل يطهر بمجرد ذلك أم لا ؟والذي يظهر لي الطهارة‘‘ (ج:۱ص:۳۴۵،۳۴۶)
فتاوی رضویہ میں ہے:’’دوسرے یہ کہ اس میں طاہر مطہر پانی ڈالتے رہیں یہاں تک کہ اس کا برتن بھرکر ابلے اور بہنا شروع ہو سب طاہر مطہر ہوجائےگا کہ اس طرح پاک پانی کے ساتھ بہانے سے ناپاک پانی پاک ہو جاتا ہے تو غیر مطہر ہوجانا بدرجہ اولی‘‘ (ج:۱،ص:۱۲۱) نیز اسی میں ماء مستعمل کی تعریف میں امام اہلسنت نے فرمایا :’’ کہ وہ پانی آب غیر کثیر ہو نہ جاری ہو نہ دہ دردہ۔‘‘ ملتقطا (ج:۱ ،ص:۱۱۳) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۰؍ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۴ھ ؍۲۲؍دسمبر ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ،
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
