متفرقات

پیسہ لےکر انعامی مقابلہ کرانے کا حکم

فتویٰ نمبر:۴۸

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زید انعامی نعتیہ مقابلہ کرانا چاہتا ہے وہ اس طرح کہ جن لوگوں کو اس میں حصہ لینا ہوگا وہ آن لائن لیں گے اور اس میں کئی راؤنڈ پڑھایا جائے گا ساتھ ہی ساتھ فیصل بھی ہوں گے اور تعاون کے طور پر ہر کینڈیڈیٹ سے مثلا۵۰۰، روپے لینا اور اس پروگرام کے آڈیو بنا کر ویب سائٹ یا یوٹیوب وغیرہ پر ڈالنا کیسا ہوگا نیز اس پروگرام میں ویڈیوز فوٹوز سے کوئی تعلق نہیں رہے گا اس مسئلے کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہوگا جواب عنایت فرما دیں عین نوازش ہوگی۔
المستفتی: مہتاب عالم ،عیدگاہ ،مچھر ہٹہ، رام نگر، بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نعتیہ انعامی مقابلے کا یہ طریقہ کہ ہر امیدوار سے ۵۰۰ روپے لے کر مقابلہ کرائے اور پھر مخصوص پوزیشن پانے والوں کو انعام سے نوازے۔ جوئے کی ایک صورت ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے اس کی جائز صورت یہ ہے کہ امیدوار سے کچھ نہ لیا جائے اور ارکان جلسہ اپنی طرف سے پوزیشن پانے والوں کو انعام سے نوازیں۔تبین الحقائق میں ہے’’ لان القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى وسمى القمار قمارالان كل واحد من المقارين ممن يجوز ان يذهب ماله الى صاحبه ويجوز ان يستفيد مال صاحبه فيجوز الا زدياد والانتقاص في كل واحد منهما فصار قمارا وهو حرام بالنص‘‘(ج:۷،ص:۴۶۶) نیز اسی میں ہے’’لو قال واحد من الناس لجماعۃ من الفرسان اوللاثنین:فمن سبق فلہ کذا من مال نفسہ او قال للرماۃ :من اصاب الھدف فلہ کذا جاز لانہ من باب التنفیل فأذاکان التنفیل من بیت المال کالسلب ونحوہ یجوز فماظنک بالخالص مالہ‘‘(ج:۷ ،ص:۴۶۷ )بہار شریعت میں ہے ’’دوسری صورت جواز کی یہ ہے کہ شخص ثالث نے ان دونوںسے یہ کہا کہ تم میں سے جو آگےنکل جائے گا اس کو اتنا دوں گا جیسا کہ اکثر حکومت کی جانب سے دوڑ ہوتی ہے اور اس میں آگے نکل جانے والے کے لیے انعام مقرر ہوتا ہےان دونوں میں باہم کچھ لینا دینا طے نہیں ہوتاہے‘‘ (ج:۳ ،ص:۶۰۷ )واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۵؍جمادی الاخریٰ ۱۴۴۶ ھ؍ ۸ ؍دسمبر ۲۰۲۴ ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ،
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے