فتویٰ نمبر:۴۷
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ عورت کا اپنے والدین کی قبر پر جانا کیسا ہے نیز بہن کا اپنے بھائی کی قبر پر جانے کا کیا حکم ہے ؟
المستفتیہ: نفیسہ فاطمہ ، بجرڈیہہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارکہ کے علاوہ قبروں کی زیارت کو جانا عورتوں کو مطلقا ممنوع ہے خصوصا اپنے کسی عزیز رشتہ دار والدین وغیرہ کی قبروں کی زیارت خصوصا جبکہ ان کی موت کو زیادہ دن نہ ہوئے ہوں تو اور زیادہ ممنوع ہے کہ رونا دھونا چیخنا چلانا ہوگا جیسا کہ عورتوں کی عادت ہے،غنیۃ المستملی میں ہے’’تستحب زیارۃ القبور للرجال وتکرہ للنساء‘‘(ص،۷۶۳)
ردالمحتار میں ہے’’وجزم فی شرح المنیۃ با لکراھۃ لمامر فی اتباعھن الجنازہ ،وقال الخیر الرملی ان کان ذلک لتجدید الحزن والبکاءوالندب علیٰ ماجرت بہ عادتھن فلا تجوز ‘‘ (ج،۳ ص،۱۵۱)فتاوی رضویہ میں ہے ’’اصح یہ ہےکہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں‘‘(ج،۹ ص،۵۳۸) نیز اسی میں ہے ’’اقول:قبور اقرباپر خصوصا بحال قرب عہد ممات تجدید حزن لازم نساء ہےاور مزارات اولیاء پر حاضری میں احد ی الشناعتین کا اندیشہ یا ترک ادب یا ادب میں افراط ناجائز تو سبیل اطلاق ممنع ہےو لہٰذا غنیہ میں کراھت پر جزم فرمایا، البتہ حاضری و خاک بوسی آستان عرش نشان سرکار اعظم ﷺ اعظم المندوبات بلکہ قریب واجبات ہے اس سے نہ روکیں گے اور تعدیل ادب سکھائیں گے ‘‘(ج،۹ ص،۵۳۹)
بہار شریعت میں ہے’’ عورتوں کے لیے بعض علماء نے زیارت قبور کو جائز بتایا، در مختار میں یہی قول اختیار کیا مگر عزیزوں کی قبور پر جائیں گی تو جزع و فزع کریں گی لہذا ممنوع ہے اور صالحین کی قبور پر برکت کے لیے جائیں تو بوڑھیوں کے لیے حرج نہیں اور جوانوں کے لیے ممنوع اور اسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقا منع کی جائیں کہ اپنوں کی قبور کی زیارت میں تو وہی جزع و فزع ہے اور صالحین کی قبور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں‘‘ (ج،۱ ص،۸۴۹)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۵،جمادی الاخریٰ ۱۴۴۶ ھ؍ ۸ ،دسمبر ۲۰۲۴ ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
