الجواب بعون الملک الوھاب
کسی حلال چیز کے متعلق جب تک حرمت و نجاست کا یقین نہ ہو وہ چیز حلال و طیب ہے کہ اصل اشیا میں اباحت ہے۔
رد المحتار میں ہے: ’’صرح في التحریربان المختار أن الأصل الاباحۃ عندالجمهور من الحنفيةوالشافعية‘‘ (ج:۱،ص:۲۲۱) اور کھانے پینے کی چیزوںپرکچھ نمبرات کا درج ہونا اور ان نمبرات کی بابت یہ مشہور ہونا کہ اس سے مراد خنز یرکے گوشت یا چربی کا ملنا ہے تو اگر یہ فقط بازاری افواہ ہے،جب تو یہ بات خود ساقط الاعتبار کیونکہ بازاری افواہیں لائق استماع و قابل اعتبار نہیں ہوتیں ۔ فتاوی رضویہ میں ہے’’ بازاری افواہ قابل اعتبار اور احکام شرع کی مناط و مدار نہیں ہو سکتی‘‘ (ج:۴،ص:۴۸۰) اور اگر ان نمبرات کا لحم خنزیر ملنے کے مترادف ہونا محقق و مسلم بات ہو مگر یہ خبر کفار کی طرف سے ہو تو چونکہ کسی چیز کی حلت و حرمت حکم دینی ہے اور احکام دینیہ میں خبر کفارہرگزلائق التفات وقابل اعتبار نہیں۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے: ’’وإن كان المخبربنجاسة الماء رجلا من أهل الذمۃلایقبل قوله‘‘ (خانيہ مع الہندیہ، ج:۹،ص:۳۰۱) در مختارمیں ہے:’’أن خبرالكافر مقبول بالاجماع في المعاملات لافي الديانات‘‘ (ج:۹،ص:۴۹۷) فتاوی رضویہ میں ہے: ’’گوشت خریداہو کافر کہےاس میں لحم خنزیر ملا ہے مسلمان کو اس کا کھانا حلال اگرچہ اس کا صدق ہی غالب ہو اگر چہ اس کی یہ بات دل پرکچھ جمتی ہوئی ہو کہ جو خدا کو جھٹلاتا ہے اس سے بڑھ کر جھوٹاکون پھر ایسے کی بات محض واہیات البتہ احتیاط کرے تو بہتر وہ بھی وہاں جب کچھ حرج نہ ہو۔‘‘(ج:۴،ص:۴۸۳)
شرعی کونسل آف انڈیا میں ہے: ’’یہودکا کسی چیز پرلفظ ’’کوثر‘‘لکھ دینا شرعااس کی حلت کی دلیل نہیں،اگر وہ چیز اصل کے اعتبار سے پاک اور حلال ہے تو حکم حلت و طہارت ہوگااوراگر وہ چیز حرام ونجس ہے تواس پر حرمت و نجاست کاہی حکم ہوگا۔لفظ’’کوثر‘‘یہودیوں کے نزدیک حلال کےمترادف ہےجیساکہ سوالنامہ میں درج ہےاور کسی چیزکی حلت و حرمت کی خبر دیانات سے ہےجس میں کافر کی خبر کا اعتبار نہیں۔‘‘(سولہواں فقہی سیمنار،ص۳:)
پس صورت مسئولہ میں ایسی حلال چیزوں کا کھاناجا ئز وروا ہوگا،ہاں اگر حرج ومشقت نہ ہوتواحترازکریں ۔ والله تعالی اعلم
کیافرماتےہیںعلمائےدین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارے میںکہ کھانے پینے کی چند چیزوں پر کچھ نمبر کوڈکی صورت میں لکھے ہوتے ہیں مثلاًe471,e472,e501,e502وغیرہ جن کی بابت یہ کہاجاتا ہے کہ ان اشیاء میں خنزیر کے گوشت یا چربی کی آمیزش ہے۔ تو کیا ان اشیا کا کھانا حلال و جائز ہے۔بینوا بالکتاب وتوجروا بالحساب المستفتیہ:نفیسہ فاطمہ اسلامی،انبہ بجرڈیہہ
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۰؍جمادی الثانی۱۴۴۵ھ۲۴؍دسمبر۲۰۲۳ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
