یا فرماتے ہیںعلماے کرام ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ہماری مسجد میں ایک منزلہ اور صحن مسجدکے علاوہ خارج مسجد میں تھوڑی جگہ ہے جمعہ کے دن نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے زید پہلے حرم کا حصہ پھرصحن مسجد پھرخارج مسجدکی جگہ میں نمازیوں کی صف لگاتے ہیں پھراخیر میں مسجد کی پہلی منزل میں نمازیوں کی صف لگاتے ہیں بقول زید کہ مسجد کے سامنے خارج مسجد کی جگہ چھوڑکر پہلی منزل میں نماز پڑھنامکروہ ہے لہذا اس مسئلے میں صفوں کی ترتیب کیا ہونی چاہیے حکم شرع بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی:نعیم الدین،لَلّہ پورہ، بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں صفوں کی ترتیب یہ رکھیں کہ پہلے داخل مسجد یعنی مسجد شتوی پھر صحن مسجد جسے عرف فقہامیں مسجد صیفی کہتے ہیں اس میں صف لگائیں پھرمسجد کی بالائی منزل پر صف لگائے جائیں،اور اب بھی لوگ بچ رہیں توخارج مسجدجوجگہ خالی ہے وہاں صف لگائیں،صف لگانے کی یہی ترتیب عبارات فقہاسے ظاہرومستفاد۔
درمختار میں ہے:’’لوصلی علی رفوف المسجدان وجد فی صحنہ مکاناکرہ‘‘ردالمحتارمیں ’’کرہ ‘‘ کے تحت ہے:’’لان فیہ ترکالاکمال الصفوف‘‘(ج:۲،ص:۳۱۲)،فتاویٰ رضویہ میں ہے :’’ہاں کثرت جماعت کہ طبقہ زیریں کے دونوں درجے بھر جائیں اورلوگ باقی رہیں تو سقف پر اقامت نماز کی اجازت ہوگی‘‘(ج:۱۶،ص:۳۵۰)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۳؍رجب المرجب۱۴۴۵ھ؍۴؍فروری ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
