کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اعلیٰ حضرت سرکارفرماتے ہیں مسواک کرنا سنت ہے ہروقت کرسکتاہے اگرچہ تیسرے پہریاعصر کوچبانے سے لکڑی کے ریزے چھوٹیں یا مزہ محسوس ہو تونہ چاہیے۔(فتاویٰ رضویہ شریف جلددہم صفحہ ۵۱۸،پرنٹ D.I)توسوال یہ ہے کہ اگرمزہ محسوس ہواور ریزے چھوٹیں توروزہ کا کیا حکم ہوگا؟
المستفتی:غلام ازہری رضااسمٰعیلی،مسلم پورہ،کٹواں ،بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں روزہ نہ جائے گا۔بحرالرائق میں ہے:’’وأماالسواک فلابأس بہ للصائم،اطلقہ فشمل الرطب والیابس والمبلول وغیرہ وقبل الزوال وبعدہ‘‘(ج:۲،ص:۴۹۱)
درمختار میں ہے:’’ولایکرہ سواک ولوعشیاًاورطبابالماء علی المذھب‘‘اسی کے تحت ردالمحتار میں ہے:’’وکرہ الثانی المبلول بالماءلما فیہ من ادخالہ فمہ من غیرضرورۃ وردبانہ لیس بأقوی من المضمضۃ ،أماالرطب الاخضر فلابأس بہ اتفاقا کذا فی الخلاصۃ‘‘(ج:۲،ص:۳۹۹)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۱؍شعبان المعظم ۱۴۴۵ھ؍۳؍مارچ ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
