السلام عليکم ورحمۃ الله و برکاتہہ، بعد سلام عرض ہے کہ زید بی سی چلاتا ہے جس میں پندرہ سو روپیہ جمع ہوتا ہے جس میں تقریباً پچاس افراد ہیںہر مہینے کی ایک تاریخ کو پرچی نکالی جاتی ہے جس کا نام نکلا سارا پیسہ اس کو دے دیا جائے گا جو پیسہ جمع کرتا ہے اس کی شرط یہ ہے کہ اگر ایک تاریخ کے بعد پیسہ جمع کیا گیا تو پچاس روپیہ فائن لیا جائے گا اور جس کا پرچہ میں نام نکلتا ہے اس سے میں سو روپیہ لوں گا اس پر سب کا اتفاق ہے زید کا کہنا ہے کہ کیا یہ میرا پیسہ لینا جائز ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں کرم نوازی ہوگی ۔
المستفتی: حافظ فتح محمد صاحب ،ساکن ، کٹواں، کھرکا، بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
بی سی کی یہ صورت کہ چند افراد مل کر روپیہ جمع کریں اور ہر ماہ جس کے نام کی پرچی نکلے اسے جمع شدہ روپیہ دےدیں اور آگےپیچھے جملہ افراد کو اپنا جمع شدہ رقم مکمل مل جائے، اس کی حیثیت قرض کی ہے، اور قرض دے کر نفع حاصل کرنا جائز نہیں، تو اگرصورت مسئولہ میں پیسہ جمع کرنے والاخود بھی بی سی کا فردہے تو اس کا لوگوں سے سوروپیہ لینا ہرگز جائز نہیں کہ یہ قرض سے نفع حاصل کرنا ہے جو کہ حرام ہے۔
رد المحتارمیں ہے:’’ كل قرض جر نفعا حرام أى إذا كان مشروطا‘‘ ( ج:۷،ص:۳۹۵) اوراگر روپیہ جمع کرنے والا کمیٹی(بی سی)کا فرد نہیں تو بلاوجہ وہ روپیہ کا مستحق نہیں تو اس کا لینابھی جائز نہیں ،ہاں اگر وہ منتظم(روپیہ جمع کرنے والا)واقعۃً محنت و مشقت کرتا ہو اس طور پر کہ لوگوں کے پیسوں کی تفصیلات لکھتا ہو اور لوگ اس کی انہیں محنت و کاوش کی اجرت کے طور پر سو روپیہ دیں تو اس کا یہ لیناجائزودر ست ہو گا۔
فتاوی قاضی خان میں ہے:’’ان كان الدلال عرض وتعنى وذهب في ذلك روزگاره كان له أجرمثله بقدرعمله‘‘(ج:۳،ص:۴۳۴)اورمنتظم کا فائن کےطورپرپچاس روپیہ لیناجائزنہیں۔
بحرالرائق میں ہے:’’ التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ‘‘(ج:۵،ص:۶۸)فتاوی رضویہ میںہے:’’مالی جرمانہ جائز نہیں۔’’لانه شئ کان و نسخ‘‘(ج۵:ص۱۱۲:)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۲؍رجب المرجب ۱۴۴۵ھ۲۴؍جنوری۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
