کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ،ایام محرم میں کالا لباس پہننا منع ہے، شیعوں سےمشابہت کے سبب، لیکن اگر کسی علاقے میں مطلقاً مسلمان ہوں اور آس پاس بھی شیعہ نہ ہوں تو وہاں کیا حکم ہوگا، اور ان ایام میں عورتوں کا برقعہ پہننا کیسا ہے؟
المستفتی: غلام ازہری رضا اسماعیلی ،کٹواں، بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
کالا لباس پہننا فی نفسہ جائز و مباح ہے، ہاں ایام محرم میں روافض سے مشابہت کی وجہ سے ممنوع ہے، اور روافض سے مشابہت کا تحقق انہیں بلاد و امصار میں ہوگا جہاں وہ ان کا شعار خاص ہو، اور جہاں کالا لباس پہننا ان کا شعار نہیں ان مقامات پر ان ایام مخصوصہ میں بھی حکم ممانعت نہیں۔ و لہٰذا صورت مسئولہ میں ان شہروں میں جہاں روافض نہیں اور نہ ہی وہاں کالا لباس ان کا شعار خاص تو حکم ممانعت نہیں، ہاں احتراز چاہیے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’ در بارہ لباس اصل کلی یہ ہے کہ جو لباس جس جگہ کفار یا مبتدعین یا فساق کی وضع ہے اپنے اختصاص وشعاریت کے مقدار پر مکروہ یا حرام یا بعض صورت میں کفر تک ہے۔ ‘‘( ج: ۲۲، ص: ۱۸۴) نیز اسی میں تشبہ لزومی کے بیان میں ہے: ’’ مگر اس کے متحقق کو اس زمان و مکان میں ان کا شعار خاص ہونا قطعاً ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترک نہ ہو ورنہ لزوم کا کیا محل؟ ہاں! وہ بات فی نفسہ شرعاًمذموم ہوئی تو اس وجہ سے ممنوع یا مکروہ رہےگی نہ کہ تشبہ کی راہ سے۔
امام قسطلانی مواہب الدنیہ میں دربارطیلسان کہ پوشش یہود تھی، فرماتے ہیں: ’’ اما ماذکرہ ابن القیم من قصۃ الیہود فقال الحافظ ابن حجر انما یصح الاستدلال بہ فی الوقت الذی تکون الطیالسۃ من شعارھم وقد ارتفع ذلک فی ھذہ الازمنۃ فصار داخلا فی عموم المباح‘‘(ج: ۲۴، ص: ۵۳۳)
فتاویٰ رضویہ ہی میں دھوتی کے متعلق ارشادفرماتے ہیں: ’’ رہے وسط ہند کے شہری لوگ ان میں بھی فناے شہر اور خود شہرکے اہل حرفہ وغیرہم جنھیں کم قوم کہا جاتا ہے، بعض ہر وقت اور بعض اپنے کاموں ضرورتوں کے حالات میں دھوتی باندھتے ہیں ، ہاں یہاں کے معزز شہریوں میں اس کا رواج نہیں مگر اس کا حاصل اس قدر کہ اپنی تہذیب کے خلاف جاتے ہیں نہ یہ کہ جو باندھے اسے فعل کفر کا مرتکب سمجھیں تو غایت یہ کہ ان اضلاع کے شہری وجاہت دار آدمی کو گھر سے باہر اس کا باندھنا مکروہ ہوگا۔ (ج:۲۴، ص: ۵۳۵) فتاویٰ امجدیہ میں ہے: ان بلاد میں جہاں دھوتی خاص ہندوؤں کا لباس گنا جاتا ہے، مسلمانوں کو پہننا نہ چاہیے۔ (ج:۴،ص: ۶۳) ایام محرم میں عورتوں کا سیاہ برقعہ پہننا بلا کراہت جائز و درست ہے کہ سیاہ برقہ روافض کا شعار وعلامت نہیں کہ ان سے تشبہ ہو اور تشبہ ہی مدار حکم ممانت ہے۔ والله تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۷؍ محرم الحرام ۱۴۴۷ھ؍ ۱۳؍ جون ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ،
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
