ٹنکی ماءقلیل ہو اور اس میں بکری کی مینگنی پڑجائے تو پانی کا کیا حکم ہوگا ؟جبکہ کنواں میں گرجائےتو ناپاک نہ ہوگاتو کیاکنواں کاحکم اس سےمستثنیٰ ہے؟
المستفتی:غلام ازہری رضااسمٰعیلی،کٹواں، مسلم پورہ ،بنارس
الجواب بعون الملک الوہاب
ٹنکی میں مینگنی وغیرہ نجاست گر جانے سے پانی نجس وناپاک ہو جائےگا ،ہاں کنویں کے متعلق فقہانے یہ صراحت فرمائی ہے کہ اگر کنویں میں مینگنی وغیرہ قلیل مقدار میں گرجائے تو بوجہ ضرورت کنویں کی ناپاکی کا حکم نہ دیا جائے گا،اورکنویں میں ضرورت یہ ہے کہ عموما کنواں ڈھکا نہیں ہوتا اوراس کے پاس سے مویشی گذرتے اور مینگنی وغیرہ کرتے ہیں اور ہوائیں انہیں اڑا کر کنویں میں ڈال دیتی ہیں تو اگرقلیل مینگنی کے چلے جانے سے کنویںکی ناپاکی کا حکم ہو تو سخت حرج ومشقت لاحق ہو گی ،اورکنویںکےبر خلاف ٹنکیاںعموما بند ہوتی ہیں اوراونچی جگہوں پر رکھی جاتی ہیںجہاں جانوروں کا گزر نہیںہوتا تو اس میں ضرورت کا تحقق نہیں ولہٰذا نجاست کے گرنے سے ٹنکی نجس وناپاک ہوجائے گا ۔در مختار میں ہے:’’اماالقلیل فینجس وان لم یتغیر‘‘(ج:۱،ص:۳۳۲)بحرالرائق میں ہے:’’لاببعرتی ابل وغنم ای لاینزح ماءالبئر بوقوع بعرتی ابل وغنم فیھا وھذا استحسان،والقیاس ان یتنجس الماءمطلقا لوقوع النجاسۃفی الماءالقلیل کالاناء ،وذکر للاستحسان طریقتان:الاولی واختارھا صاحب الھدایۃ مقتصرا علیھا ان ابار الفلوات لیس لھارؤوس حاجزۃ المواشی تبعر حولھا و یلقیھاالریح فیھا فجعل القلیل عفوللضرورۃ‘‘ (ج:۱،ص:۱۹۸)
بہار شریعت میں ہے ’’مینگنیاں اور گوبر اور لید اگرچہ ناپاک ہیں مگر کنویں میں گر جائیں تو بوجہ ضرورت ان کا قلیل معاف رکھا گیا ہے ،پانی کی ناپاکی کاحکم نہ دیا جائے گا ،(ج:۱،ص:۳۳۵)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۸؍محرم الحرام۱۴۴۶ھ؍۴؍اگست ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
