فتویٰ نمبر:۴۰
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید جس علاقے میں رہتا ہے وہاں آس پاس دو،تین مسجد ہے لیکن اس پر امام کی قرأت صحیح ونماز کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے زید دوسرے علاقے میں نماز پڑھنے جاتا ہےجبکہ زید کا گھر تقریباً ۳۰؍میٹر کی دوری پر ہوگاتو کیازید پر دوسرے علاقے میں جماعت واجب ہے؟
المستفتی:غلام ازہری رضا اسمٰعیلی
مسلم پورہ،کٹواں ،بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
جن مساجد میں صحیح القرأۃ وپابندصلاۃ امام نہ ہوں تولوگوں کو چاہیے کہ صحیح القرأۃ وپابند شریعت امام کاانتظام فرمائیں تاکہ لوگوں کی نمازیں درست وصواب ہوں،پھرمحلے کی جس مسجد میں ایساامام نہیں توزید کو لازم ہے کہ محلے کی دوسری مسجدجس میں صحیح خواں وشریعت کا پابندامام ہووہاں شریک جماعت ہو،اور اگربالفرض محلے کی کسی مسجد میں پابندشرع امام نہیں تو دوسرے علاقے کی مسجد میں جاکر شامل جماعت ہوجانا بہترہے،بحرالرائق میں ہے:’’اذا کان مسجدان یختار أقدمھا‘‘(ج:۱،ص:۶۰۶)،فتاویٰ قاضی خان میں ہے:’’اذاکان امام الحی زانیا أواکل ربالہ أن یتحول الی مسجد آخر‘‘(مع الہندیہ،ج:۷،ص:۴۴،۴۵)،فتاویٰ رضویہ میں ہے:’’فقیری کا پیشہ کہ تندرست ہوتے ہوئے بھیک مانگتے پھرتے ہیں حرام ہے اور اس کی کمائی خبیث اور اسے امام بناناگناہ،اس کے پیچھے نمازپڑھنی گناہ،اس میں سے کسی پرہیز گارجو سنی صحیح العقیدہ ہو وضو غسل ٹھیک کرتاہو نمازصحیح پڑھتاہوامام بنائیں‘‘(ج:۶،ص:۶۲۳)،واللہ تعالیٰ اعلم ۔
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۲؍ربیع النور۱۴۴۵ھ؍۸؍اکتوبر ۲۰۲۳ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
