فتویٰ نمبر:۵۱
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ تصویر کشی اور ویڈیو کالنگ سے بات کرنا ناجائز وحرام ہے،تو کیا مردہ شخص کی فوٹو کھینچنایا ویڈیو کال سے کسی کو دکھانا ازروئےشرع جائز ہے؟زید کا قول ہے کہ مردہ کی تصویر کھینچنا جائز ہے کیوں کہ وہ ذی روح نہیں ہے عدم جواز ذی روح کی تصویر کھینچنے کے بارے میں ہےناکہ غیر ذی روح کی تصویر کے بارے میں۔
المستفتی:جاوید اختر،بنارس
الجواب بعون الملک الوہاب
تصویر کھینچناخواہ مردہ شخص کی ہو یازندہ کی ناجائز وحرام اور گناہ کا کام ہے،زید کا قول مردہ شخص کی تصویر لیناجائز وروا ہے،غلط وباطل اورعبارات فقہیہ کے متصادم ہے ۔زید کے طور پر جو بندہ مردہ پڑا ہےاس کی تصویر تو جائز ہے کہ وہ ذی روح نہیں۔اب زید بتائے کہ جس بندے کی تصویر اس کے مردہ ہونے کی حالت میں جائز تھی اب اس کے کفن دفن کے بعد اس کی تصویر رکھنے کا کیا حکم ہوگا ،۔ظاہر سی بات ہے کہ اب بھی وہ ذی روح نہیں تو اس کی تصویر کا رکھنا جائزہوگا ۔پھر اگر یہ بھی جائز ہوتوگذشتہ بزرگوں اور اکابرین کی تصویر بنانااور رکھنا بھی جائز ہوگا ۔پھر احادیث کریمہ میں ایسے کے متعلق بدترین مخلوق ہونا کیوں ارشاد ہوا ۔ حاصل یہی کہ تصویر لینا حرام ہے خواہ مردہ کا ہو یا زندہ کاکہ تصویر میں اصل چہرہ ہے جب تک وہ باقی حکم حرمت باقی رہےگا ۔
امام طحاوی سیدنا ابوہریرہ یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی’’قال الصورۃ الراس فکل شئ لیس لہ راس فلیس بصورۃ ‘‘ ہدایہ مع الفتح میں ہے:’’اذا کان التمثال مقطوع الراس فلیس بتمثال‘‘(ج:۱،ص:۴۲۸)
فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’چہرہ ہی تصویر جاندار میں اصل ہے۔ولہٰذا سیدنا ابو ہریرہ یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی کا نام تصویر رکھنا اورشک نہیں کہ فقط چہرہ کو تصویر کہتے اور بنانے والے بارہا اسی پر اقتصار کرتے ہیں‘‘(ج:۴،ص:۵۸۰)نیز اسی میں ہے: ’’ظاہر ہے کہ نیم قد یا سینہ تک کی تصویر پر بھی صادق ہے کہ اس کا سر مقطوع نہیں تو حکم منع مدفوع نہیں‘‘ (ج:۲۴،ص:۵۸۱) نیز اسی میں ہے: ’’اور شک نہیں کہ عکسی تصویر یں اگر چہ نیم قد یا سینہ تک بلکہ اگر صرف چہرہ کی تصویر ہو ہرگز نہ مثل شجر ہوتی ہیں نہ مردہ ذوالصورۃ کی حکایت کرتی ہیں بلکہ یقینا جیتے جاگتے کی صورت دکھاتی ہیں اور ناظرین کا ذہن ان سے حالت حیات ذوالصورۃ ہی کی طرف جاتا ہے کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ مردہ کی صورت ہے ۔اور مدار حکم اسی فہم پر تھا نہ حیات وموت حقیقی پر جس سے تصویر کو بہرہ نہیں‘‘ (ج:۲۴،ص:۵۸۹) بہار شریعت میں ہے’’رہا تصویر بنانا،بنواناوہ بہر حال حرام ہے خواہ دستی ہو یا عکسی دونوں ک اایک حکم ہے‘‘(ج:۱،ص:۶۲۹)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۹؍جمادی الاخری۱۴۴۶ھ۲۲؍دسمبر۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
