فتویٰ نمبر:۴۶
کیا فرماتے ہیں علماے کراماس مسئلہ میں کہ بنارس میں ساڑی کا کام ہوتا ہے بہت سے حضرات رات بھرمشین چلاتے ہیں اور فجر کی نماز گھر پڑھ کر سو جاتے ہیں اور ظہر کی جماعت بھی چھوٹ جاتی ہے تو کیا ان پر ترک جماعت کا گناہ ہوگا جبکہ ان کے گھر مشین نہ ہونےکے سبب رات کو باہر کام کرنا پڑتا ہے؟
المستفتی:محمد عقیل رضوی ،ساکن ۔لوہتہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
مسلمان عاقل بالغ قادری پر مسجد محلہ کی جماعت اولیٰ میں شرکت شرعاً واجب اوربلاعذرصحیح شرعی اس کا ترک ناجائز وگناہ ہے،اور مشین چلاناخواہ کوئی پیشہ ترک جماعت کے لیے عذر شرعی نہیں ۔لہٰذا مسئولہ صورت میں جماعت چھوڑنے والوں پر ترک جماعت کا گناہ ہوگا۔انہیں چاہئیے کہ وقت جماعت تک کام میں مشغول رہیں پھر مسجد جاکر شامل جماعت ہوں اس کے بعد سوئیں ۔تنویرالابصارمیں ہے’’تجب علی الرجال العقلاءالبالغین الأحرار القادرین علی الصلاۃ بالجماعۃ من غیرحرج‘‘ (ج:۲،ص:۲۹۰)فتاویٰ رضویہ میں ہے:’’پانچوںوقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ایک وقت کس بھی بلا عذر ترک گناہ ہے،وظیفہ وتلاوت باعث ترک نہیںہو سکتے‘‘(ج:۱، ص:۱۹۵)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۸؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۶ھ ؍یکم؍دسمبر ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
