فتویٰ نمبر:۴۵
کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ ہاتھ پر فیوی کوک لگ جائے جس کو چھڑانے میں سخت تکلیف اور حرج ہو تو وضو کا کیا حکم ہے؟
المستفتی :غلام ازہری رضا اسمعیلی،ساکن :کٹواں مسلم پورہ بنارس
الجوب بعون الملک الوھاب
ہاتھ پر لگے فیوی کوک کو اگر بآسانی چھڑایا جا سکتا ہو تو اسے چھڑا کر اس کے نیچے پانی بہانا ضروری ہوگا ،البتہ اگر اس کے چھڑانے میں مضرت و مشقت ہو کہ کھال اترنے اور تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو حرج ومشقت و مضرت کےسبب فیوی کوک والی جگہ کے نیچے حصے کو دھونا معاف ہوگا اور اس کے اوپر سے پانی بہا لیناوضو ہوجانے کے لئے کافی ہوگا۔بحرالرائق میں ہے:’’اسم البدن یقع علی الظاھر و الباطن الاان مایتعذرایصال الماءالیہ خارج عن قضیۃ النص ،وکذا ما یتعسر لان المتعسر منفی کالمتعذر کداخل العینین فان فی غسلھما من الحرج مالایخفی‘‘ (ج:۱،ص:۸۷) در مختار میں فرائض وضو کے بیان میں ہے:’’لا غسل باطن العینین للحرج ‘‘ (ج:۱،ص:۲۱۱)فتاوی رضویہ میں ہے: ’’حرج کی تین صورتیں ہیں ۔ایک :یہ کہ وھاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو جیسےآنکھ کے اندر ۔دوم:مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی ۔سوم:بعد علم و اطلاع کوئی ضرر ومشقت تو نہیں مگر اس کی نگہداشت ،اس کی دیکھ بھال میں دقت ہےجیسے مکھی،مچھر کی بیٹ یاالجھا ہوا گرہ ،کھایا ہوا بال ۔قسم اول و دوم کی معافی ظاھر اور قسم سوم بعد اطلاع ازالہ مانع ضرور ہے‘‘(ج:۱،ص:۶۱۲)
بہار شریعت میں ہے ’’آنکھوں کےڈھیلے اور پپوٹوں کی اندرونی سطح کا دھونا کچھ درکار نہیں بلکہ نہ چاہئے کہ مضر ہے‘‘(ج:۱،ص:۲۹۰) نیز اسی میں ہے ’’اگر چھڑانے میںضرر اور حرج ہو جیسے بہت پان کھانے سے دانتوںکی جڑوں میں چونا جم جاتا ہے یا عورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں کہ ان کے چھلنے میں دانتوں یا مسوڑوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو معاف ہے۔‘‘(ج:۱،ص:۲۱۶) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۱؍جمادی الاولیٰ ۱۴۴۶ھ۲۴؍نومبر۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
