کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کہ آدمی کو جنات کا سایہ چڑھا ہے اور حاضری آتی ہے اسی حالت میں آدمی نے تین سے زائد مرتبہ طلاق دیا اور دو لوگوں نے سنا بھی تو طلاق ہو گئی یا باقی ہے؟
المستفتی :اشفاق احمد نوری اسمٰعیلی،کٹواں مسلم پورہ ،بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں شخص مذکور کے ہوش و حواس بر قرار ہوں ،وہ اپنے معاملات کو سمجھ رہا ہو ،منھ سے نکلنے والے الفاظ کے بارے میں اسے علم ہو۔اچھے برے کی تمیز باقی ہو تو اس کی دی ہوئی تینوں طلاقیں پڑگئیں کہ بے حلالہ رجعت نہیں ہو سکتی ۔اور اگر واقعتاجنات کےاثرات اتنےسخت وشدید ہوں کہ اسے بالکل ہوش نہ ہو ،عقل مغلوب ہو گئی ہو، خیرو شر کی تمیز باقی نہ رہے،زبان سے کیا الفاظ ادا ہورہے ہیں اس کانتیجہ کیا ہوگا ہوش آنے کے بعد بھی اسے معلوم نہ ہو تو ایسی حالت میں دی گئی طلاقیںواقع نہ ہوںگی ۔رد المحتار میں ہے:’’قال فی التلویح ،الجنون اخلال القوۃ الممیزۃ بین الامور الحسنۃوالقبیحۃ المدرکۃ للعواقب ،بان لاتظہر آثارھاو تتعطل افعالھا،اما لنقصان جبل علیہ دماغہ فی اصل الخلقۃ ،و اما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط او ٓفۃ،واما لاستیلاء الشیطان علیہ والقاء الخیالات الفاسدۃ الیہ بحیث یفرح و یفرغ من غیر ما یصلح سببا‘‘(ج:۴،ص:۴۵۰)
فتاوی رضویہ میں ہے’’یہ سب اس صورت میں ہےکہ زید کا مزاق اس حد کو نہ پہنچا ہو کہ وہ فاسد العقل مختل الحواس ہو گیا ہو کبھی غافلوں کی سی بات کرے ،کبھی خاصےپاگلوںکی سی ، اور اگر یہ حالت ہے(اور اللہ خوب جانتاہے)تو اصلا طلاق نہ ہوگی اگر چہ اس نے وہ سب الفاظ بہ نیت طلاق کہے ہوں۔‘‘در مختار میں ہے:’’لایقع طلاق المجنون والصبی والمعتوہ‘‘(ج:۱۲،ص:۳۶۵)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۴؍جمادی الاولیٰ ۱۴۴۶ھ۱۷؍نومبر۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
