فتویٰ نمبر:۳۰
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ عوام الناس میں یہ مشہور ہے کہ دعائے یونس ’’ربناظلمنا انفسنا الخ‘‘اجتماعی دعامیں پڑھنادرست نہیں صحیح قول کیا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب واضح فرمائیں۔
المستفتی:عبدالرحمٰن ،امام پرانی مسجد، رحیم پور،لوہتہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
آیت کریمہ ’’ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اللہ عزوجل کی وحدانیت،اس کی کبریائی ،تسبیح وتقدیس پر مشتمل ہے ،اورآخری جزمیں اپنی عاجزی وانکساری کا اعتراف ہے اوردعاکے متعلق قرآنی تعلیمات یہی ہے کہ ابتدائے دعامیں اللہ رب العزت کی تسبیح و تقدیس ہو اور ساتھ اپنی عجزو قصور کا اعتراف بھی،تومذکورہ آیت کریمہ دراصل دعاکا مقدمہ اور اس کا ابتدائیہ ہے کہ اس آیت کریمہ کو بطور وظیفہ ورد کرکے جو دعاہو مقبول بارگاہ ہو،حدیث پاک میں ہے:’’قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دعوۃ ذی النون اذدعاوھوفی بطن الحوت‘‘ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘فان لم یدع بھارجل مسلم فی شئ قط إلااستجاب اللہ لہ‘‘(جامع الترمذی،ص:۹۷۰،رقم الحدیث:۳۵۱۴)،احسن الوعاء لآداب الدعاء میں ہے:’’حدیث میں آیۂ کریمہ ’’ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘کی نسبت یہ فرمایا:یہ اسم اعظم ہے جو اس کے ساتھ دعا کرے قبول ہو،علمافرماتے ہیں:آیۂ کریمہ قبول دعاخصوصاً دفع بلا میں اثرتمام رکھتی ہے‘‘(فصل پنجم،ص:۱۴۳)،پھر جب کہ یہ آیت دعاکا مقدمہ ہے دعانہیں تو اسے اجتماعی دعامیں پڑھنا اور اس پر لوگوں کا آمین یعنی اے اللہ ! قبول کرکہنالغووبے معنی ہے،تو اجتماعی دعا میں اس سے احتراز ہی چاہیے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۶؍ذی الحجہ۱۴۴۴ھ؍۲۵؍جون ۲۰۲۳ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
