فتویٰ نمبر:۳۱
کیا فرماتے ہیں علماےکرام کہ زیدایک سرکاری ملازم ہے اس نےلون لےکر ایک زمین خریدی اور چونکہ حکومت کی طرف سے اس کی ملازمت خطرے میں پڑگئی تھی تو زیدنےکہاکہ اگر میری نوکری برقرار رہی اور میں نے لون پاٹ دیا تو میری یہ زمین فلاں مدرسے کے لیے ہے ۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں زید کی زمین کا وقف صحیح ہےیا نہیں؟
المستفتی:نیاز احمد،لوہتہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
صحت وقف کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وقف معلق بالشرط نہ ہو ،اگر وقف کو شرط پر معلق کیاجائےتو وقف باطل ہو جاتا ہے، اور صو رت مسئولہ میںچونکہ وقف کوشرط پر معلق رکھاہے ولہٰذا زیدکازمین وقف کرناصحیح نہیں۔
در مختار میں ہے:’’وان یکون منجزا لامعلقا الا بکائن ومضافا‘‘ردالمحتارمیں’’لامعلقا‘‘کےتحت ہے:’’کقولہ: اذاجاءغدا وجاءراس الشہراواذاکلمت فلانا فارضی ھذہ صدقہ موقوفۃ اوان شئت او احببت یکون الوقف باطلا،لان الوقف لایحتمل التعلیق بالخطر‘‘(ج:۶،ص:۵۲۴)
بحر الرائق میں ہے:’’وشرئط اھلیۃ الواقف للتبرع من کونہ حرا عاقلا بالغا وان یکون منجزاغیرمعلق فانہ ممالایصلح تعلیقہ بالشرط،فلو قال ان قدم و لدی فداری صدقۃ موقوفۃعلی المساکن فجاء ولدہ لاتصیر وقفا‘‘(ج:۵،ص:۲۱۳)بہار شریعت میں شرائط وقف کے بیان میں ہے ’’وقف کو شرط پر معلق نہ کیا ہو۔ اگر شرط پرمعلق کیا مثلا میرا بیٹا سفر سے آئے تو یہ زمین وقف ہے یااگر میں اس زمین کامالک ہو جائوںیا اسے خرید لوں تو وقف ہے یہ وقف صحیح نہیں‘‘(ج:۲،ص:۵۳۰)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۸؍ذی الحجہ ۱۴۴۵،۲۵؍جون۲۰۲۴ ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
