متفرقات

فون پر طلاق کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماےکرام کہ میری اور میرے شوہر کی فون پر بات ہو رہی تھی کسی بات کو لےکر میں نےان سے کہہ دیا میری جگہ کوئی اور عورت ہوتی وہ آپ سے طلاق لے لیتی ،یہ بات سن کر انہوں نے کہا طلاق چاہیے، تمہیں طلاق چاہیے ؟تو میں نے کہا نہیں چاہیے ، بولے نہیں اب تم طلاق لو، طلاق لو، میں نے کہا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ، بولے نہیں، اب تو ہم تمہیں طلاق دیں گے ،طلاق دیں گے۔ میں نے کہا چپ ہو جائیں بولے بات کرو گھرپر بلائو ابو کو اور طلاق لو میں نے کہا، ابو کو نہیں بلائوںگی ، پھر انہوں نے کہا نہیں، اب تو طلاق لے اب ہم تجھے طلاق طلاق طلاق دیں گے۔ المستفتی :نوید خاں، چھتیس گڑھ

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں شوہر کا یہ کہنا: ’’ اب تم طلاق لو‘‘ اگر اس سے مقصود اپنی بیوی کو ڈرانا ، دھمکانا ہو کہ میرےساتھ نہیں رہنا چاہتی تو مجھ سے طلاق طلب کر لو ، مانگ لو، اس صورت میں جب اس جملہ سے طلاق واقع کرنے کی نیت نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ اور قسم کے ساتھ شوہر کی بات معتبر ہوگی ، اور اگر مقصود ایقاع طلاق ہو تو چونکہ یہ جملہ دو بار کہا گیا ہےتو دو طلاق رجعی پڑےگی ۔ پھر اس کے بعد شوہر کا یہ کہنا کہ ’’ہم تمھیں طلاق دیں گے ‘‘یہ جملہ قصد طلاق کا پتہ دیتا ہے ، جس سے طلاق نہیں ہوتی ، پھر اس کے بعد یہ جملہ، ’’ بلائو ابو کو اور طلاق لو‘‘ اس سے بھی اگر مقصود ڈرانا ہی ہو اور ایقاع مقصود نہ ہو تو طلاق نہیں، پھر اس کا یہ کہنا کہ ’’نہیں، اب تو طلاق لے‘‘ اس سے بھی مقصود اگر ایقاع نہ ہو تو طلاق نہیں، پھر اخیر میں یہ کہنا،’’ اب تو ہم تجھے طلا ق طلاق طلاق دیں گے۔‘‘ اس جملے سے بھی قصد طلاق معلوم ہوتا ہے اور فقط قصد طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ پس صورت مسئولہ میں مذکورہ جملوں سے شوہر کا مقصود فقط ڈرانا ، دھمکاناہو، طلاق واقع کرنا مقصود نہ ہو اور یہ بات شوہر قسم اٹھاکر کہے تو وقوع طلاق کا حکم نہ ہوگا۔ پھر اگر شوہر جھوٹی قسم کھائےگا اس کا وبال عظیم اس کے سر ہوگا، اور اگر مذکورہ جملوں سے ایقاع طلاق ہی مقصود ہوتو اس کی بیوی پر تین طلاق پڑ گئی اب ساتھ رہنے کی سوائے حلالہ کے کوئی صورت نہیں۔ در مختار میں ہے: ’’ ففی حالۃ الرضا ای غیر الغضب والمذاکرۃ تتوقف الاقسام الثلاثۃ تاثیرا علی نیۃ للاحتمال والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ و یکفی تحلیفھا فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما و فی الغضب توقف الاولان ان نوی وقع و الا لا و فی مذاکرۃ الطلاق یتوقف الاولان فقط‘‘(ج:۴، ص: ۵۳۲) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
ربیع النور۱۴۴۷ھ۲۱؍ستمبر۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے