فتویٰ نمبر:۱۳
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے میں کہ مسلمان مالک کا غیر مسلم و مسلمان کاریگر کو دیوالی جو غیر مسلموں کا تہوار ہے اس دن مٹھائ بانٹنا کیسا ؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں ۔
المسفتی : غلام ازہری رضا اسمعیلی ،کٹواں مسلم پورہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
مسلمان مالک کا اپنے کاریگروں کو خاص دیوالی کے روز مٹھائی دینا اگر یہ کہہ کر ہو کہ یہ دیوالی کی مٹھائی ہے یا دیوالی ہی کی نیت سے دے تو نا جائز و حرام ہے ، اور اگر دیوالی کی مٹھائی کہہ کر نہ دے اور نہ ہی ایسی کوئی نیت ہو بلکہ یونہی عادت ناس کے طور پر دے جب بھی منع ہے کہ صورتا کفار و مشرکین کی خوشی و مسرت میں شرکت ہے ، تو ہم کیوں ان کے تہوار کے مواقع پر مٹھائیاں تقسیم کریں بلکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے آقا و مولیٰ حضور نبی رحمت علیہ الصلاۃ و التحیۃ کی ولادت با سعادت کے موقع پر اپنے مسلمان کاریگروں کے ساتھ بر و صلہ کریں ، انہیں مٹھائیاں دیں کہ خاص اس موقع سے خوشی منانے کا حکم تو قرآن حکیم میں موجود ہے
در مختار میں ہے: ’’ الا عطاء باسم النیروز و المھرجان لایجوز ای الھدایا باسم ھذین الیومین حرام و ان قصد تعظیمہ کما یعظمہ المشرکون یکفر ۔ و لو اھدی لمسلم و لم یرد تعظیم الیوم بل جری علی عادۃ الناس لا یکفر و ینبغی ان یفعلہ قبلہ او بعدہ نفیا للشھبۃ‘‘ ( ج:۱۰،ص: ۴۵۸؍ ۴۸۶ )
رد المختار میں ہے:’’ بان یقال ھدیۃ ھذا الیوم ، و مثل القول النیۃ فیما یظھر ‘‘و اللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ:
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۸ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۵ ؍ ۳ دسمبر ۲۰۲۳ ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
