فتویٰ نمبر:۱۰
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہہ، کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلے میں کہ آج کل گورمنٹ کی طرف سے ایک کا رڈ نکلا ہوا ہے جس کا نیم ہے کہ جس کا کارڈ ہے اس کا علاج ہو گا لیکن کچھ لوگ غلط طریقے سے دوسرے کا علاج کروا رہے ہیں جیسے جس کا کا رڈ ہے اس کو بیڈ پر لٹا کر سفید چادر اوڑھا کر اور ہاتھ میں پانی لگانے والا پائپ صرف ٹیپ مار کر اس کا فوٹو لیتے۔ الغرض کا رڈ والے کو مریض بناکر دوسرے کا علاج کیا جا رہا ہے شرعاً ایسا کرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
المستفتی: غلام از ہری رضا ا سمٰعیلی،کٹواں مسلم پورہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئو لہ میں جبکہ کارڈ کے ذریعہ ملنے والی گورمنٹی معاونت سے صرف وہی لوگ اپنا علاج کراسکتےہیں۔ جن کے پاس کار ڈ ہو، تو اس سے دوسروں کا علاج کرانا خصوصاً مذکورہ طریقے پر تو یہ دھوکہ دہی کرنا اور عذر سے کام لیناہے، اور عذر ودھو کہ کسی سےبھی جائز نہیں، علاوہ ازیں طریقہ مذکورہ قانونا جرم بھی ہے، اور جرم قانونی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو ذلت و خواری کےلیے پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں، ھدایہ مع الفتح میں ہے: ’’لان مالھم مباح في دارھم فبای طريق أخذه المسلم أخذ ما لامباحا إذا لم يكن فيه غدر‘‘(ج:۷،ص:۳۹)
فتاوی رضویہ میںہے’’ امانت میں خیانت جائز نہیں اگرہندو کی ہوغدر و بد عہدی جائز نہیں،اگر چہ ہندو سے ہو خیانت وغدر کے سوا اس کا بھی لحاظ ضرور ہے کہ کسی جرم قانونی کا ارتکاب کرکےاپنے آپ کوذلت پرپیش کرنا بھی منع ہے ۔ حدیث میں ہے۔ ’’من اعطى الذلة من نفسه طائعاغيرمكره فليس منا‘‘ اور جب نہ غدرہونہ قانونی جرم توپھرجس طرح اس کا مال ملےمباح ہے۔ ‘‘(ج:۲۹،ص:۹۴)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۷؍ربیع الآخر۱۴۴۵ھ۱۲؍نومبر۲۰۲۳ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
