فتویٰ نمبر:۹
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین کہ اگر کافر حربی کو سامان لینے کے بعد پیسہ دینا بھول گیا پھر بعد میں یاد آیا کہ پیسہ نہیں دیا اگر پیسہ نہ دے تو شرعاً کوئی حرج ہے ؟ جبکہ کافر کو بھی یاد نہیں کہ مجھے پیسہ ملا یا نہیں ؟
المستفتی : محمد شمیم اختر ،کٹواں ڈیہواں بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں خریدار کو چاہیئے کہ کافر دکاندار کو سامان کی قیمت ادا کرے ، یاد آنے کے بعد بھی قیمت نہ دینا غدر و دھوکہ کی راہ پر چلنا ہے ، اور غدر و دھوکہ سے کسی کا بھی مال لینا جائز نہیں اگر چہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ہدایۃ مع الفتح میں ہے ’’ لان ما لھم مباح فی دراھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ ما لا مباحا اذا لم یکن فیہ غدر‘‘( ج: ۷، ص: ۳۹ )در مختار میں ہے:’’ لان مالہ ثمۃ مباح فیحل برضاہ مطلقاً بلا غدر‘‘ اسی کے تحت رد المختار میں ہے:( بلا غدر) ھذا القید لزیادۃ ۔۔۔۔۔ لان ما اخذہ برضاھم لا غدر فیہ ‘‘( ج: ۷، ص: ۴۲۳ )فتاویٰ رضویہ میں ہے ” امانت میں خیانت جائز نہیں اگر چہ ھندو ہو ، غدر و بد عہدی جائز نہیں اگر چہ ھندو سے ہو۔ ( ج: ۲۹،ص:۹۷)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۷ ،ربیع الاخر ۱۴۴۵ ھ ؍ ۱۲ ، نومبر ۲۰۲۳ ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
