فتوی نمر:۵
السلام علیکم ورحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان شرع اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں ایک شخص تھا جس کا بھیک مانگنے کا پیشہ تھا اس نے وصیت کی تھی کہ میں مر جاؤں گا تو میرا کل پیسہ مسجد میں لگا دینا ، وہ مانگنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرتا تھا اب اس کا انتقال ہو گیا ہے اس کے پاس بہت سا روپیہ ہے اس روپیہ کا شرعی حکم کیا ہے ؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔
المستفتی: عبد المتین ،لوہتہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
جس شخص کے پاس اپنی ضروریاتِ شرعیہ پوری کرنے کی مقدار مال ہو یا مال تو نہ ہو مگر کما کر اپنی ضروریات کو پوری کر سکتا ہو تو ایسے شخص کا سوال کرنا ناجائز وحرام وگناہ ہے ، آج کل کے پیشہ ورخود ساختہ فقیر جو دربدر مانگتے دکھائی دیتے ہیں وہ عموماً سوال کے حقدار نہیں ہوتے بلکہ ان کا مقصدمال جمع کرنا ، اسے بڑھانا ہوتا ہے ـ تو ایسوں کا مانگنا اور ان کی حالات سے واقف ہوکر انھیں دینا سب حرام و گناہ ہے ، احادیثِ کریمہ میں ایسوں کے لیے سخت وشدیدوعیدیں وارد ہیں ۔
چنانچہ حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’ما یزال الرجل یسال الناس حتی یاتی یوم القیمۃ لیس فی وجہہ مزعۃ ‘‘ یعنی آ دمی ہمیشہ لوگوں سے سوال کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آ ے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا نہیں ہوگا۔
(صحیح البخاری،ج:۱، ص:۲۷۴،الحدیث: ۱۴۷۴)
پس صورت مسئولہ میں شخص مذکور کا مانگنا جبکہ اس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود تھا یا اس کو مہیا کرنے کی قدرت تھی اس کو سوال کرنا ناجائز وحرام تھا ،اب کہ اس نے بے ضرورت شرعی سوال کرکے مال جمع کیا وہ سب مال ملک خبیث ہے اور ملک خبیث کا حکم یہ ہے کہ اس کا مالک معلوم ہو تو اسے واپس دےدیا جائے ورنہ فقیروں اور محتاجوں پر صدقہ کر دیا جائے ،اس کا استعمال مسجد میں نہیں کیا جا سکتا ۔
درمختار میں ہے:’’ لا یحل ان یسال شیئا من القوۃ من لہ قوت یوم بالفعل او بالقوۃ کالصحیح المکتسب و یاثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم‘‘ ( ج:۳، ص:۳۰۶)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:’’ من کان لہ قوت یوم لا یحل لہ السوال کذا فی الاختیار شرح المختار وما جمع السائل من المال فھو خبیث ‘‘( ج:۵، ص:۴۰۳)
ردالمختار میں ہے:’’ ویردونھا علی اربابھا ان عرفوھم و الا تصدقوا بھا لان سبیل الکسب الخبیث التصدیق اذاتعذر الرد علی صاحبہ‘‘ (ج:۹، ص:۵۵۳)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:’’ بے ضرورت شرعی سوال کرنا حرام ہے ، اور جن لوگوں نے باوجود قدرت کسب بلا ضرورت سوال کرنا اپنا پیشہ کر لیا ہے وہ جو کچھ اس سے جمع کرتے ہیں سب نا پاک و خبیث ہے ، اور ان کا یہ حال جان کر ان کے سوال پر کچھ دینا داخل ثواب نہیں بلکہ نا جائز و گناہ ، اور گناہ میں مدد کرنا ہے۔‘‘ ( ج: ۱،ص: ۳۰۷) ہاں فقراء پر تصدق کر کے ان سے گزارش کر دیں کہ مسجد میں حصہ لے لیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۹،ربیع النور ۱۴۴۵ ھ/ ۱۵ ، اکتوبر ۲۰۲۳ ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
