نکاح و طلاق کے مسائل

کیابلااضافت طلاق طلاق طلاق کہنے سے طلاق ہو جائے گی؟

فتویٰ نمبر:۶۴

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کی بیوی ہندہ جو کہ رشتہ داری میں گئی ہوئی تھی اور مہمانوں کے لیے کھانا بنا رہی تھی زید نے اپنی بیوی ہندہ کو منع کیاکہ اب کھانا نہ بنائے گھر آنے کے بعد میاں بیوی کے درمیان بحث ومباحثہ ہو اور اس درمیان زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کہاکہ وہاں کھانا نہ بنانے کے لئے میں نے کہاتھا کہ تمہارے باپ نے کہا تھا اس پر زید کی بیوی ہندہ نے کہا کہ کہتے کہتے میرے ماں کو تو کھاہی گئے کیااب ہمارے باپ کو بھی کھا جائیں گے ۔اس پر غصے میں آکر زید نے بلا اضافت تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہہ دیا تو کیا طلاق وقع ہو گئی اور اگر طلاق واقع ہو گئی تو پھر سے نکاح میں لانے کی کیا صورت ہوگی جواب مرحمت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی:مولوی قاسم خان،شاہ پور،نرائن پور،مرزاپور

الجواب بعون الملک الوھاب
طلاق واقع ہونے کے لیے اضافت ضروری ہے،اضافت خواہ لفظ میں ہو یا نیت وارادے میں،پس صورت مذکورہ میں زید نےفقط اتنا ہی کہا’’طلاق،طلاق،طلاق‘‘نہ اپنی بیوی ہندہ کانام ذکر کیا نہ نسب ، نہ وصف نہ لقب اور نہ ہی اس کی طرف اشارہ کیااور نہ ہی یہ جملہ کسی ایسے سوال کے جواب میں تھا جس سے اضافت سمجھ آئے غرض زید کا مذکورہ کلام اضافت مفظی سے خالی ہو مگر وہ اقرار کرے کہ اس نے مذکورہ جملہ اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت سےکہےتو تین طلاقیں واقع ہوجائیںگی،اور اگر شوہر اقرار نہ کرتاہوتو اس سے قسم لی جائےاگر وہ قسم کھا کر کہے کہ میں نے ان الفاظ سے اپنی بیوی کے طلاق کا ارادہ نہ کیاتھاتو وقوع طلاق کاحکم نہیں،پھر اگر وہ جھوٹی قسم کھائےگاتو اس کا وبال عظیم اسی پر ہوگا،اور جس صورت میں طلاق واقع ہوگی تو ہندہ زید کے لیے بےحلالہ حلال نہ ہوسکے گی۔فتاوی ہندیہ میں ہے:’’رجل قال لامراتہ اگر توزن منی سہ طلاق مع حذف الیاء لایقع اذاقال لم انو الطلاق لانہ لماحلف لم یکن مضیفاالیھا‘‘ (ج:۱،ص:۴۵۰)رد المحتار میں ہے:’’لو اراد طلاقھا تکون الاضافۃ موجودۃ‘‘(ج۴:ص۴۵۸:)فتاوی رضویہ میں ہے‘‘ طلاق بے اضافت میں جبکہ ایقاع مفادہواس کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔اگر بحلف کہہ دے گا کہ زوجہ کو طلاق مقصود نہ تھی مان لیں گے۔ ‘‘ (ج:۱۲،ص:۳۵۸) فتاوی امجدیہ میں ہے:’’طلاق واقع ہونے کے لئے اضافت ضروری ہے خواہ صراحۃ ہو یا دلالۃ شوہر نے اگران الفاظ سے اپنی اسی عورت کو طلاق دینے کی نیت سے کی ہےجب تو طلاق واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں ۔جاؤ کے لفظ سے جو عورت کو خطاب کیا ہے ۔ اس سے یہ ثابت نہیں کہ طلاق بھی اسی عورت کے لیے ہے،زید اگر قسم شرعی کھاکر اپنی نیت کا حال بیان کر دے گا کہ میں نے ان الفاظ سے اپنی عورت کو طلاق دینے کا ارادہ نہیں کیاتھا تو وقوع طلاق کا حکم نہیں دیں گے،اگر جھوٹ کہےگا تو وبال اس پر رہے گا۔‘‘ (ج:۲،ص:۲۳۰)واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۵؍ذی القعدہ ۱۴۴۶ھ۴؍مئی۲۰۲۵ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے