فتویٰ نمبر:۶۳
کیا فرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلے میں کہ زید امام ہے اور اس نے نس بندی کرائی اور اسی حالت میں اس نے کچھ دن نماز پڑھائی بعد کو معلوم ہواتو اس نے توبہ کی ،سوال یہ ہے کہ جو نماز توبہ کے بغیر پڑھی گئی اس کا دہرانا واجب ہوگا جبکہ مقتدیوں کو معلوم نہ جواب عنایت فرما کر شکریہ کاموقع عنایت فرمائیں۔
المستفتی:غلام ازہری رضا اسمٰعیلی
کٹواں،مسلم پورہ،بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
نسبندی کرناکراناناجائز وحرام ،موجب غضب رحمٰن مخالف حدیث وقرآن اورکار لئام ہے ،ایساشخص قبل توبہ صحیحہ وصادقہ ہرگز لائق امامت نہیں بلکہ قبل توبہ اس کی اقتداء میں نماز پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ہے ، جب لوگوں کو معلوم ہو ان نمازوں کااعادہ کر لیں۔قرآن حکیم میں ہے’’ولامرنھم فلیغیرن خلق اللہ‘‘(النساء:۱۱۹)اسی کےتحت تفسیر صاوی حاشیہ بیضاوی میںہے’’ومن ذالک تغییر الجسم ‘‘(ج۲:،ص:۶۵) تفسیر کبیر میں ہے:’’ان معنی تغییرخلق اللہ ھھناھوالاخصاء‘‘(ج:۴،ص:۲۳۲)در مختار میں ہے:’’ واما خصاء الادمی فحرام‘‘(ج:۹،ص:۵۵۷)نیز اسی میں ہے ’’کل صلاۃ ادیت مع کراھۃالتحریم تجب اعادتھا‘‘اسی کےتحت رد المختار میں ہے:’’قید فی البحر فی باب قضاءالفوائت وجوب الاعادۃفی اداءالصلاۃمع کراھۃ التحریم بماقبل خروج الوقت،امابعدہ فتستجب،وسیئاتی الکلام فیہ ھناک ان شاءاللہ تعالیٰ مع بیان الاختلاف فی وجوب الاعادۃ وعدمہ وترجیح القول بالوجوب فی الوقت وبعدہ‘‘(ج۲:ص۱۴۸:)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۷؍شوال المکرم۱۴۴۶ھ۱۶؍اپریل۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
