فتویٰ نمبر:۷۹
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تو شوہر نے غصہ میں کہا کہ من کر رہا ہے کہ تم کو طلاق دے دوں، یا اس طرح کہا کہ تم ایسا کرتی ہو میں کسی دن تم کو طلاق دے دوںگا تو کیا حکم شرع ہوگا؟
المستفتی:مطیع الرحمٰن حسرتؔ وحیدی
رحیم پور، لوہتہ، بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
طلاق دے دوںگا، کہنے سے بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی کہ یہ طلاق کا وعدہ اور طلاق کی دھمکی ہے، جس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ بحرالرائق صریح کے بیان میں ہے: ’’ ولیس منہ اطلقک بصیغۃ المضارع الا اذا غلب استعمالہ فی الحال کما فی فتح القدیر‘‘(ج:۴،ص: ۴۳۹)
فتاویٰ رضویہ میں ہے: زید نے ہمارے سامنے حلف شرعی کے ساتھ کہا کہ میں نے ہرگز طلاق نہ دی ، میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ مال پھینکوگی تو طلاق دے دوں گا، پس اس صورت میں طلاق ثابت نہیں۔ (ج:۱۲، ص: ۶۵۶) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۷؍ ربیع النور ۱۴۴۷ھ۳۱؍اگست۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
