فتویٰ نمبر:۶۶
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین،زید نے اپنی بیوی ہندہ کو بذریعۂ کورٹ تین مہینے میں تین طلاقیں دیں اور وہ اس کا اقرار بھی کرتا ہے ، طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
المستفتی:اکرم علی،چنداپور، لوہتہ، بنارس
صورت مسئولہ میں زید کی بیوی ہندہ پر تین طلاقیں پڑ گئیں ۔
رد المحتار میں ہے:’’لو قال للکاتب اکتب طلاق امرأتی کان اقرارا بالطلاق وان لم یکتب، ولو استکب من أخر کتابا بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ عنونہ و و بعثبہ الیھا فأتاھا، وقع ان اقراالزوج انہ کتابہ‘‘ (ج:۴، ص: ۴۵۶)
بہار شریعت میں ہے: ’’دوسرے سے طلاق لکھواکر بھیجی تو طلاق ہو جائےگی۔ لکھنے والے سے کہا میری عورت کو طلاق لکھ دے تو یہ اقرار طلاق ہے یعنی طلاق ہو جائےگیاگر چہ وہ نہ لکھے۔ (ج:۲،ص:۱۱۴) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۳۰؍ شوال المکرم ۱۴۴۶ھ۲۹؍اپریل۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
