نکاح و طلاق کے مسائل

دو طلاق کے بعد رجعت ہو سکتی ہے یا نہیں؟

فتویٰ نمبر:۶۰

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع مسئلہ ذیل کے متعلق ،زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو تین یا چار برس قبل طلاق دیا اور رجعت کرلی اور پھر۱۰؍ فروری ۲۰۲۵ء کو بذریعہ واٹس ایپ ہندہ کو دوبارہ طلاق دیا اس حال میں کہ ہندہ اپنے مائکہ میں تھی اور اب بھی وہیں پر ہے، زید پھر سے رجعت کرنا چاہتا ہے مگر ہندہ کےمائکہ کے افراد زید اور ہندہ کے درمیان کسی قسم کا رابطہ قائم ہونےنہیں دے رہے ہیں،دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کے لیے اب رجعت کی کیا صورت نکل سکتی ہے؟اور زید و ہندہ کے درمیان کسی قسم کا تعلق قائم نہ ہونے دینے والوں کا یہ عمل کہاں تک مشروع ہے ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔ فقط والسلام
المستفتی : اختر علی، کنئی سرائے، لوہتہ، بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ اس نے اپنی زوجہ ہندہ کودوسری طلاق بالفاظ صریحہ دیے تو چونکہ وہ پہلے ایک طلاق دے چکا ہے تواب اس کی زوجہ کو دو طلاق رجعی پڑگئی، اب اگر زید جاہے تو عدت سے قبل رجعت کر سکتا ہے، رجعت کی صورت ہے کہ شوہر اپنی زوجہ کو دو متقی لوگوں کے سامنے کہے کہ میں نے تجھ سے رجعت کرلی۔ اورعدت کے اندررجعت کے لیے زوجہ خواہ کسی شخص کی رضا مندی کو کوئی دخل نہیں ہے ۔بلکہ اگر عورت انکار بھی کرے تب بھی رجعت ہو جائےگی، اور دوسرے لوگوں کا زوجین کے مابین تعلق قائم نہ ہونے ‎دینا سخت بات ہے،ان کو اس سے باز آنا چاہیے،یادرہے کہ اب اگر کبھی بھی زیداپنی بیوی کو ایک بھی طلاق دےگا تو اس کی زوجہ اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائےگی،بے حلالہ رجعت کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ہدایہ مع الفتح میں ہے:’’إذ اطلق الرجل امرتہ تطليقة رجعية أو تطلیقتین فله أن يراجعها في عدتھا رضيت بذلك أولم ترض والرجعۃ أن یقول راجعتک أورا جعت امراتی ویستحب أن يشهد على الرجعۃ شاهدين‘‘ (ج:۴،ص:۱۴۱)بہار شریعت میں ہے’’رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخص کوگواہ کرے۔‘‘ (ج:۲،ص:۱۸۰)واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۷؍شعبان المعظم ۱۴۴۶ھ۱۶؍فروری۲۰۲۵ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے