فتویٰ نمبر:۵۹
کیا فر ماتے ہیں علما ے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو کیا اس کے اعمال برباد ہو جاتے ہیں اور جو نماز روزے قضا ہو چکے ہیں دو بارہ ایمان لانے پر ان کی قضا کرنا لازم ہوگا؟
المستفتی :محمد اسلم رضوی،دھمریہ لوہتہ،بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
مرتد ہو جانے سے اس کے سب اعمال ضرور برباد ہو جاتے ہیں لیکن اسلام لانے کے بعد ان اعمال کی قضا نہیں ہاں زمانۂ اسلام میں جو عبادتیں قضا تھیں پھر مرتد ہونےکے بعد مسلمان ہوا تو اب بھی ان عبادتوں کی قضا کرنی ہوگی۔
در مختار میں ہے: ’’ویقضی ماترک من عبادۃفی الاسلام لان ترک الصلاۃ والصیام معصیۃو المعصیۃ تبقی بعد الردۃ وما ادی منہافیہ یبطل ولایقضی من العبادات الاالحج‘‘ (ج:۶،ص:۳۹۷)
بہار شریعت میں ہے’’زمانۂ اسلام میں کچھ عبادات قضا ہو گئیں اور ادا کرنے سے پہلےمرتد ہوگیا پھر مسلمان ہوا تو ان عبادات کی قضا کرے اور جو ادا کر چکا تھا اگر چہ اردتداد سے باطل ہوگئی مگر اس کی قضا نہیں البتہ اگر صاحب استطاعت ہو تو حج دو بارہ فرض ہوگا۔‘‘ (ج۲،ص:۴۵۸) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۷؍شعبان۱۴۴۶ھ۱۶؍فروری۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
