فتویٰ نمبر:۷۳
کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ میں کہ دو رکعت والی نماز میں امام بھولے سے سورۂ فاتحہ پڑھ کر رکوع میں چلا جائے تو مقتدی لقمہ دے سکتا ہے؟ اور کیا امام لقمہ لےلے تو سب کی نماز ہو جائےگی؟
المستفتی:غلام ازہری رضا اسماعیلی
کٹواں، مسلم پورہ، بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
مقتدی کا اپنے امام کو لقمہ دینے کی اجازت اصلاح نماز کی ضرورت کے پیش نظر ہے، اگر ضرورت کا تحقق نہ ہو تو یہ لقمہ کلام ناس ہونے کی وجہ فساد نماز کا سبب بن جائےگا۔ اب مسئولہ صورت میں غور کریں تو مقتدی کا لقمہ دینا بے حاجت و ضرورت ہے کہ جب امام سورت ملانا بھول گیا اور رکوع میں چلاگیا تو ترک واجب کے سبب سجدۂ سہو لازم ہو گیا ، اب مقتدی کا لقمہ دینا اس لزوم سجدۂ سہو کو دور نہیں کر سکتا تو وہ لقمہ محض بے حاجت و ضرورت ٹھہرا جوکہ مفسد نماز ہے۔ تو صورت مسئولہ میں مقتدی کا لقمہ دینا جائز نہیں اگر دےگا تو اس کی نماز فاسد ہوگی اور اگر امام لےتو امام کی اور دوسرے مقتدیوں کی بھی نماز فاسد ہوجائےگی۔
تبیین الحقائق میں ہے: ’’ و فتحہ علیٰ غیر امامہ لانہ تعلیم و تعلم من غیر ضرورۃ فکان من کلام الناس و قولہ علیٰ غیر امامہ یشمل فتح المقتدی علی المقتدی وعلیٰ غیر المصلی وعلی المصلی وحدہ و فتح الامام والمنفرد علیٰ أی شخص کان و کل ذٰلک مفسد الا اذا قصد بہ التلاوۃ دون الفتح‘‘ (ج:۱، ص:۳۹۲)
بحرالرائق میں ہے: ’’ لو عرض الامام شیٔ فسبح المأموم لا بأس بہ لان المقصود بہ اصلاح الصلوٰۃ فسقط حکم الکلام عندالحاجۃ الی الاصلاح ولا یسبح الامام اذا اقام الی الاخیرین لانہ لا یجوز لہ المرجوع اذا کان الی القیام اقرب فلم یکن التسبیح مفیدا کذا فی البدائع ، و ینبغی فساد الصلوٰۃ بہ لأن القیاس فسادھا بہ عند قصدالاعلام و انما ترک للحدیث الصحیح : ’’من نابہ شیٔ فی صلاتہ فلیسبح ‘‘فللحاجۃ لم یعمل بالقیاس فعند عدمھا یبقی الأمر اصل علی القیاس ، ثم رأیتہ فی المجتبی قال: ’’ ولو قام الثالثۃ فی الظھر قبل ان یقعد فقال المقتدی سبحان اللہ، قیل لا تفسد ، و عندالکرخی ، تفسد عنھما‘‘ (ج:۲،ص:۱۲)
فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’جب امام کو قعدۂ اولیٰ میں دیر ہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ قعدہ اخیرہ سمجھا ہے تنبیہ کی تو دو حال سے خالی نہیں یا تو واقع میں اس کا گمان غلط ہوگا یعنی قعدہ اولیٰ ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی جب تو ظاہر ہے کہ مقتدی کا بتانا نہ صرف بے ضرورت بلکہ محض غلط واقع ہوا تو یقیناً کلام ٹھہرا اور مفسد نماز ہوا، یا اس کا گمان صحیح تھا ، غور کیجیے تو اس صورت میں بھی اس بتانے کا محض لغو و بے حاجت ہونا اور اصلاح نماز سے اصلاً تعلق نہ رکھناثابت کہ جب امام قعدہ اولیٰ میں اتنی تاخیر کر چکا جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا تو لا جرم یہ تاخیر بقدر کثیر ہوئی اور جو کچھ ہونا تھا یعنی ترک واجب و لزوم سجدۂ سہو ہوچکا، اب اس کے بتانے سے مرتفع نہیں ہوسکتااور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیا جائے تو سواے فضول بے فائدہ کے کیا باقی رہا، لہٰذا مقتضاے نظر فقہی پر اس صورت میں بھی فساد نمازہے۔ نظیر اس کی یہ کہ جب امام قعدہ اولیٰ چھوڑکر پورا کھڑا ہوجائے تو اب مقتدی بیٹھنے کا اشارہ نہ کرے، ورنہ ہمارے امام کےمذہب پر مقتدی کی نماز جاتی رہےگی کہ پورا کھڑا ہونے کےبعد امام کو قعدۂ اولیٰ کی طرف عود ناجائز تھا تو اس کا بتانا محض بے فائدہ رہا اور اپنے اصلی حکم کی رو سے کلام ٹھہرکر مفسد نماز ہوا۔ (ج:۷، ص:۲۶۵) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۴؍محرم الحرام ۱۴۴۷ھ۲۰؍جولائی۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
