آداب کا بیان

قبرستان میں کھانا پینا کیسا ہے؟

فتویٰ نمبر:۷۸

کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہےاورلوگ قبرستان میں قبر کھودتے ہیں تو محنت کے سبب اس وقت کھاتے پیتےبھی ہیں، تو اس میں کیا شرعاً کوئی حرج ہے؟ فقط والسلام
المستفتی: غلام ازہری رضا اسماعیلی ،مسلم پورہ، کٹواں، بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب
بوقت ضرورت قبرستان میں کھانے پینے میں کوئی مضائقہ وحرج نہیں جب کہ خاص قبر سے علاحدہ ہوکر کھائے اور بہر صورت قبر کا ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھے اور بلا ضروت قبرستان میں کھاناپینا وغیرہ مکروہ و نامناسب ہے، رد المحتار میں ہے: ’’ و یکرہ النوم عندالقبر و قضاء الحاجۃ بل اولیٰ و کل مالم یعھد من السنۃ والمعھود منھا لیس الا زیارتھا والدعاء عندھا قائما‘‘ (ج:۳، ص:۱۵۴)
فتاویٰ امجدیہ میں ہے: ’’ اور قبرستان میں کھانا پینا سگریٹ و حقہ پینا مکروہ ہے، اور بظاہر یہ کراہت تنزیہی ہے مگر دونوں پچھلی میں بہ نسبت پہلی کے سخت ہے ،کہ آگ قبرستان میں نہ لے جانا چاہیے۔ (ج:۱، ص:۳۶۲) والله تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۷؍ ربیع النور ۱۴۴۷ھ؍ ۳۱؍ اگست ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے