فتویٰ نمبر:۵۷
کیافرماتے ہیں علماءکرام ان مسائل پر کہ جہری نمازوں میںامام نےقرأت شروع کر دی تو اس وقت مقتدیوں کو زبان سے نیت کرنا کیسا ہے؟اور قبرستان میں لوگوں سے سلام ،مصافحہ کرنا کیسا ہے؟
المستفتی:غلام ازہری رضا اسمٰعیلی،کٹواں،مسلم پورہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
جب بلند آواز سے قرآن حکیم کی تلاوت کی جائے تو تمام حاضرین پر سننا لازم وضروری ہے جبکہ وہ مجلس بغرض سننے کو حاضر ہو۔پس جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو جو مقتدی داخل نماز ہو چکے ہیں ان پر قرأت امام سننا اور چپ رہنا فرض ہے،اورجو ابھی داخل نماز نہیں ہیں ان پر سننا لازم نہیں کہ وہ حلقۂ استماع میں داخل نہیں ۔اور جبکہ ان پر سننا لازم نہیں تو زبان سے ان کا نیت کرنا جائز بلکہ مستحب و بہتر ہے۔
غنیۃ المتملی میں ہے:’’الاصل أن الاستماع للقران اذا اقرئ فرض کفایۃ لانہ لاقامۃ حقہ بان یکون ملتفتا الیہ غیر مضیع و ذالک یحصل بانصات البعض‘‘(ص:۴۹۸)فتاوی رضویہ میں ہے’’اگر کو ئی شخص اپنے لئے تلاوت قرآن عظیم بآواز کر رہا ہےاور باقی لوگ اس کے سننے کو جمع نہ ہوئےبلکہ اپنے اغراض متفرقہ میں ہیںتو ایک شخص تالی کے پاس بیٹھابغور سن رہا ہے اداء حق ہو گیا باقیوں پر کوئی الزام نہیں ۔اور اگر وہ سب اسی غرض واحدکے لئےایک مجلس میں مجتمع ہیں تو سب پر سننے کا لزوم چاہیئے جس طرح نماز میں جماعت مقتدیان کہ ہرشخص پر استماع وانصات جداگانہ فرض ہے‘‘(ج:۲۳،ص:۳۵۴)بہارشریعت میں ہے’’جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سننا فرض ہے جب کہ وہ مجمع بغرض سننے کے حاضرہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہےاگر چہ اوراپنے کام میں ہوں‘‘(ج:۱،ص:۵۵۲)درمختارمیںہے’’التلفظ عند الارادۃ بھا مستحب ھو المختار‘‘ردالمحتارمیںہے:’’لأن الانسان قد یغلب علیہ تفرق خاطرہ‘‘ (ج:۲،ص:۹۲)واللہ تعالیٰ اعلمقبرستان میں دنیاوی گفتگو کرنا آخرت سے غفلت کی علامت ہے خصوصاًجبکہ بلا فائدہ ہو اور غفلت آخرت قبیح تر ہےاور سلام ومصافحہ میں کوئی حرج نہیں ۔حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے:’’ولیحذرعما لافائدۃ فیہ من الکلام فان ھذا وقت ذکرو موعظۃ فتقبح فیہ الغفلۃ فان لم یذکر اللہ تعالیٰ فلیلزم الصمت‘‘ (ص:۶۰۶)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۵؍رجب المرجب ۱۴۴۶ھ۲۶؍جنوری ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
