حج و عمرہ کے مسائل

حج تمتع کے عمرہ سے فارغ ہوکر حج قران کی نیت کرنا

فتویٰ نمبر:۶۵

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص حج تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام کا باندھ کر ہندوستان سے مکہ کےلیے روانہ ہوا، پھر وہاں پہنچ کراس نے عمرہ کی تکمیل کی اور احرام سے باہر ہونے کے بعد وہ میقات کے باہر مثلاً مدینہ شریف چلا گیا پھر مدینہ شریف سے واپسی پر ذوالحلیفہ سے حج قران کی نیت کرنا چاہتا ہے توکیا اس کو شرعاً اس کی اجازت ہے؟
المستفتی:مطیع الرحمٰن، لوہتہ، بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب
آفاقی شخص حج کے مہینہ میں عمرہ کا حرام باندھ کر مکہ جائے اور عمرہ سے فارغ ہو جائے ، اب وہ خواہ مکہ شریف میں ٹھہرے یا میقات کے باہر کہیں بھی جائے ، جب کہ اپنے وطن نہ لوٹے تو اب اس کا حج ’’حج تمتع‘‘ ہوگا۔ پس صورت مسئولہ میں جب شخص مذکور عمرہ سے فارغ ہوکر مدینہ شریف گیا تو واپسی میں اسے حج قران کی نیت سے احرام باندھنے کی اجازت نہ ہوگی، بلکہ اس کے لیے حج تمتع متعین ہے۔ جوہرہ نیرہ میں ہے: ’’ لو عاد بعد ما حل من عمرتہ الیٰ غیر اھلہ فی موضع لاھلہ التمتع والقران و حج من عامہ ذالک کان متمتعا عند ابی حنیفۃ و صار کانہ لم یخرج من مکۃ‘‘ (ج:۱، ص:۴۰۰) در مختار میں ہے: ’’ کوفی ای آفاقی حل من عمرتہ فیھا ای الا شھر و سکن بمکۃ ای داخل المیقات او بصرۃ او غیر بلدہ و حج من عامہ متمتع لبقاء سفرہ‘‘(ج:۳،ص:۵۷۰) فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے: ’’ کو فی قدم العمرۃ فی اشھر الحج ففرغ منھا و حلق او قصر ثم اتخذ بمکۃ اوالبصرۃ دارا ثم حج من عامہ فھو متمتع ‘‘(ج:۳، ص:۶۲۹) فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’لواعتمرکوفی فی اشھر الحج و اقام بمکۃ او ببصرۃ و حج من عامہ ذالک صار متمتعا ، ھٰکذا فی المتون‘‘ (ج:۱، ص:۳۰۴)
بہار شریعت میں ہے: ’’ یونہی اگر گھر نہ آیا عمرہ کرکے کہیں اور چلا گیا تو تمتع نہ گیا۔‘‘ (ج:۱، ص:۱۱۶۰ )
غنیۃ الناسک میں ہے: ’’ المتمتع الآفاقی اذا خرج الی المدینۃ المنورۃ لا یجوز لہ القران وقت الرجوع و کذا لو خرج الی الآفاق لحاجۃ فقرن لا یکون قارنا عند ابی حنیفۃ‘‘ (ص: ۳۴۳) پس شخص مذکور کو چاہیے کہ جب مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہو تو میقات سےعمرہ کا احرام باندھ کر آئے اور عمرہ سے فارغ ہو۔ غنیۃ الناسک میں ہے: ’’ و ھٰذہ عمرۃ مفردۃ لا اثر لھا فی تکرر تمتعہ‘‘(ص: ۳۴۳) واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۲؍ذی القعدہ ۱۴۴۶ھ۱۱؍مئی۲۰۲۵ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے