نکاح و طلاق کے مسائل

تین طلاقوں کے بعد دوبارہ اسی شوہر سے نکاح کی صورت

فتویٰ نمبر:۶۹

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ، ایک عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی، عورت نے بعدطلاق عدت گزاری اوردوسرے شخص سے نکاح کر لی، بعد نکاح بغیر خلوت ہوئے شوہر کا انتقال ہو گیا تو جواب طلب امریہ ہے کہ اب وہ عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں ؟
المستفتی: محمدمطیع الرحمٰن ، بنارس ، لوہتہ، بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب
شوہر کے تین طلاق دینے کے بعد عورت اسی شوہر کے لیے اس وقت حلال ہو سکتی ہےجب کہ بعد طلاق عورت عدت گزارے، پھر دوسرے مردسے نکاح کرے، پھر وہ دوسرا مرد اس سے وطی کرے، پھر طلاق دے، اب عورت دوسرے مرد کے طلاق دینے کے بعد عدت گزارے تو اب وہ شوہر اوّل کےلیے حلال ہو سکتی ہے، پس صورت مسئولہ میں جب کہ شوہر ثانی نے اس سے وطی نہ کی اور انتقال کر گیا، تو وہ عورت شوہر اوّل کے لیے حلال نہ ہوئی، تو اگر وہ عورت شوہر اول سے نکاح کرنا چاہے تو شوہر ثانی کی موت کے بعد عدت وفات گزار کر کسی تیسرے بندہ سے نکاح کرے پھر اس سے وطی کرکے طلاق لے، پھرعدت گزارے، اب عدت گزارنے کے بعدوہ عورت شوہر اوّل کے لیے حلال ہو جائےگی۔
درمختار میں ہے: ’’ لا ینکح مطلقۃ بالثلاث حتیٰ یطأ ھا غیرہ بنکاح نافذ خرج الفاسد والموقوف ‘‘ (ج:۵، ص: ۴۲)
جوہرہ نیرہ میں ہے: ’’ اذا مات الرجل عن امرأتہ الحرۃ فعدتھا اربعۃ اشھر وعشرۃ و ھٰذا العدۃ لاتجب الافی نکاح صحیح سواء دخل بھا او لم یدخل ‘‘ (ج:۲، ص:۲۴۵)
بہار شریعت میں ہے:’’ حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگرعورت مدخولہ ہے تو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور یہ شوہر ثانی اس عورت سے وطی بھی کرے اب اس شوہر ثانی کے طلاق یا موت کے بعد عدت پوری ہونے پر شوہر اوّل سے نکاح ہو سکتا ہے۔‘‘ (ج؛۲، ص:۱۷۷ ) اسی میں ہے: ’’ عورت کی موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے، یعنی دسویں رات بھی گزرے بشرطیکہ نکاح صحیح ہو ، دخول ہوا ہو یا نہیں، دونوں کا ایک حکم ہے، اگر چہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو ۔ ‘‘ ( ج:۲، ص: ۲۳۷)فتاویٰ امجدیہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے، صورت مذکورہ میں عدت واجب ہے، زوجہ یا شوہر کا صغیرہ یا صغیر ہونا مانع عدت موت نہیں ہے۔ اور عورت میں دخول یا خلوت ہونا بھی وجوب عدت کےلیے شرط نہیں کہ اس عدت کا سبب موت ہے۔ (ج:۲، ص: ۲۹۰) والله تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۵؍ ذی الحجہ ۱۴۴۶ھ ؍۲۲؍جون ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ،
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے