فتویٰ نمبر:۶۲
کیا فرماتے ہیں علماءدین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے گھر کی عورتیں جس رسی پر بچوں کا ناپاک کپڑا سکھاتی ہیں اسی رسی پر ہم مردوں کا کپڑا بھی سکھاتی ہیں تو کیاہم مردوں کا کپڑا سوکھنے کے بعد پاک رہتا ہے یا ناپاک؟
المستفتی :عسجد رضا،لوہتہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
اس صورت میں ضابطہ یہ ہے کہ ناپاک رسی پر بھیگا ہو پاک کپڑا ڈالاتو اگر بھیگے کپڑے کی تری ناپاک رسی کو پہنچی جس سے رسی بھیگ گئ پھر رسی کی تری چھوٹ کر گیلے کپڑے کو لگی تو وہ کپڑا ناپاک ہوگاورنہ نہیں۔اورچونکہ عموماً کپڑے اچھی طرح نچوڑکر رسیوں پر ڈالےجاتے ہیں اور اس کی تری رسی کو پہنچتی ہی نہیں یااگر پہنچتی بھی ہو تو اتنی نہیں کہ اس سے تر ہو جائے پھر رسی کی تری چھوٹ کرکپڑے کو پہنچے ولہٰذاصورت مذکورہ میں کپڑوں کے ناپاکی کا حکم نہ ہوگا جب تک کہ ضابطہ مذکورہ کی صورت وقوع پذیر نہ ہو۔اور یہ باتیں اس تقدیر پرہیں کہ رسی کی نجاست ثابت ہو۔اور اگر خود رسی کی نجاست ثابت نہ ہو تو کپڑے کی ناپاکی کا سوال ہی نہیں ہوتا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے ’’اذالف الثوب النجس فی الثوب الطاھر والنجس رطب فظھرت نداوتہ فی الثوب الطاھرلکن لم یصر رطبا بحیث لو عصریسیل منہ شئ ولایتقاطرفالاصح انہ لایصیرنجسا‘‘(ج:۱،ص۱۰۲)
بہار شریعت میں ہے’’اور اگر ناپاک کپڑا سوکھا تھا اور پاک تر تھااور اس پاک کی تری سے وہ ناپاک تر ہوگیااور اس ناپاک کو اتنی تری پہنچی کہ اس سے چھوٹ کر اس پاک کو لگی تو یہ ناپاک ہوگیاورنہ نہیں‘‘(ج:۱،ص:۳۹۳)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۷؍شوال المکرم۱۴۴۶ھ۱۶؍اپریل۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
