نکاح و طلاق کے مسائل

جھگڑے میں طلاق پڑے گی یا نہیں؟

فتویٰ نمبر:۵۱

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا اپنی بیوی ہندہ سے کسی بات کو لے کر جھگڑا ہوا اور زید کچھ دیر کیلئے وہاں سے دور ہو گیا دو بارہ واپس آنے پر پھر جھگڑا ہوا اور زید غصے میں آکر بول گیا طلاق ،طلاق،طلاق،طلاق اور وہاں سے چلاگیا ایسی صورت کیا حکم شرع دونو پر نافذ ہوگا طلاق واقع ہوئی یا نہیں اگر ہوئی تو کون سی مدلل و مفصل جواب قرآن و حدیث سے عنایت فرمائیں نوزش ہوگی۔
المستفتی :معراج احمد،ساکن:بارہ بنکی

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں زید اگر اقرار کرے کہ میں نے ’’طلاق طلاق طلاق ‘‘کے الفاظ اپنی عورت کو طلاق دینے کی نیت سے کہے تھے تو تین طلاقیں پڑ گئیںاب بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آ سکتی۔اور اگر وہ اقرار بھی نہ کرے اور نہ کوئی لفظ عورت کی طرف اضافت کا کہانہ نام نہ نسبت نہ وصف نہ لقب نہ اشارہ نہ ہی ایسا کلام کسی سوال کے جواب میں تھا جس سے اضافت پیدا ہو غرض اضافت بالکل بھی نہ ہو نہ لفظ میں نہ نیت میں تو طلاق نہ ہوگی۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:’’سکران ھربت منہ امرأتہ فتتبعھاولم یظفربھافقال بالفارسیۃبسہ طلاق ان قال:عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیٔا لایقع،کذا فی الخلاصہ‘‘(ج:۱،ص:۴۵۰) فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’اسی طرح بوجہ عدم ظہور مراد عند الناس بھی بیان شوہر کی طرف رجوع ضرور ،اگر وہ اقرار کر ے کہ یہ لفظ میں نے بقصد طلاق کہے تھے تین طلاقوں کا حکم دیا جائےگا اور بے حلالہ اس سے نکاح نہ کر سکے گا ۔‘‘(ج:۱۲،ص:۳۵۹،مترجم)نیز اسی میں ہے: ’’اگر اس نے اتنے ہی لفظ کہے کہ طلاق طلاق طلاق،نہ یہ کہا کہ دی،نہ یہ کہا کہ تجھ کو یا اس عورت کو ،نہ یہ الفاظ کسی ایسی بات کے جواب میں تھے جس سے عورت کو طلاق دینا مفہوم ہو ۔تو اصلا طلاق نہ ہوئی ،وہ بدستور اس کی عورت ہے دوبارہ نکاح کی حالت نہیں، اور اگر اس کے ساتھ یا اس بات میں جس کےجواب میں یہ الفاظ تھے وہ لفظ موجود تھے جن سے یہ مفہوم ہو کہ اس نے اپنی عورت کو طلاق دی یا وہ اقرار کرے کہ میں نے یہ الفاظ عورت کو طلاق دینے کی نیت سے کہے تھے تو تین طلاقیں ہو گئیں ہےحلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ ‘‘(ج:۱۲،ص:۲۹۲)واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۳۰؍ربیع الآخر ۱۴۴۶ھ۳؍نومبر۲۰۲۴ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے