فتویٰ نمبر:۵۸
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ ذیل میں کہ نفل روزہ اگر رکھنا ہو تو ایک روزہ رکھ سکتے ہیں یانہیں یا اس کے ساتھ ایک روزہ اور ملا کر دو روزہ رکھنا ہوگا۔ عوام میں یہ مشہور ہے کہ نفل روزہ تنہا ایک نہیں رکھ سکتے اس کی کیا حقیقت ہے ؟
المستفتی : محمد مزمل رضا اسمعیلی ،کٹواں مسلم پورہ بنارس
الجواب بعون الملک الوهاب
نفل کا ایک روزہ رکھنا جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں عاشورہ کا روزہ تنہا رکھنا مکروہ ہے۔ یونہی خاص جمعہ اور سنیچر کا تنہا روزہ بھی مکر وہ ہے، مگر جمعہ و سنیچر کے دن تنہا روزے کی کراہت اس وقت ہے جبکہ یہ نیت ہو کہ خاص اس دن روزہ رکھنا ہی چاہیئے اگر یہ نیت نہ ہو بلکہ یونہی اس دن روزہ رکھ لیںتوکراہت نہیں۔ بلکہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت حدیثوں میں وارد ہے ۔
ترمذی میں ہے:’’أن رسول الله صل الله عليه وسلم قال تعرض الاعمال يوم الاثنين والخميس فاحب ان يعرض عملی وأنا صائم‘‘ (ص:۲۴۵)در مختارمیںہے:’’والمندوب كايام البيض من كل شهر ويوم الجمعۃ ولومنفردا وعرفۃ۔وتنزیھاکعاشوراء وحده وسبت وحده‘‘ردالمحتارمیں ہے: ’’صرح به في النھروكذافي البحرفقال إن صومہ بانفراده مستحب عندالعامةكاالاثنين والخميس‘‘(ج:۳،ص:۳۳۶) فتاوی رضو یہ میں ہے:’’ جمعہ کا روزہ خاص اس نیت سے کہ آج جمعہ ہے اس کا روزہ بالتخصیص چاہیے مکروہ ہے مگر نہ وہ کراہت کہ توڑنا لازم ہوا اور اگر خاص بہ نیت تخصیص نہ تھی تو اصلا کر اہت بھی نہیں‘‘(ج۱۰:ص۵۶۶:) بہارشریعت میں ہے’’نفل دوہیں ، نفل مسنون، نفل مستحب جیسے عاشورا یعنی دسویں محرم کا روزہ اس کے ساتھ نویں کا بھی اورہر مہینےمیں تیرہویں، چودہویں، پندرہویں اور عرفہ کا روزہ ، پیر اور جمعرات کا روزہ، شش عید کے روزے ،صوم داؤد علیہ السلام یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار‘‘(ج۱:ص۹۶۶:) والله تعالی اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۰؍شعبان المعظم۱۴۴۶ھ۹؍فروری۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
