طہارت کے مسائل

پیشاب کاقطرہ آتا ہو تو نمازکیسےپڑھے؟

فتویٰ نمبر:۵۶

کیا فرماتے ہیںعلما ےدین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید کو پیشاب کےقطرے گرتے ہیں جب زید پیشاب سے فارغ ہوتا ہے تو اپنے عضو تناسل میں لگے پانی کو لنگی سے پونچھ لیتا ہے تو جواب امر طلب یہ ہے کہ زید اسی لنگی کو پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں اور ایسی صورت میں زید نمازوں کی پابندیاں کیسے کرے؟
المستفتی:محمد وارث،کنئی سرائے ،لوہتہ بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب
زید کایہ مرض اگر حد عذر کو پہنچ گیا ہے یعنی نماز کا ایک پورا وقت ایسا گذرگیا کہ پیشاب کے قطرے آتے ہی رہے بندنہ ہوے تو اب وہ معذور ہے ، اسے حکم ہے کہ وقت میں ایک بار وضوکرے اوراس وقت میں جتنی چاہے نماز پڑھے قطرہ آنے سے وضو نہ جائے گا ،ہاں جب وقت ختم ہوگاتو وضو جاتا رہےگا ، اور اگر یہ مرض حد عذر کو نہیں پہنچا ہے تو پیشاب کے قطرے آنے سے اس کا وضو جاتا رہےگا ۔زید کو چاہیےکہ روئی وغیرہ لپیٹ کر عضو تناسل کے سوراخ میں ڈال لے اور اس کا تھوڑا حصہ باہر رکھے ۔ قطرے کو روکنے کا یہ مجرب طریقہ ہے، اور چونکہ قطرے کا آنا عموماً پیشاب کے بعد ہوتا ہے اور کچھ وقت گزر جانے کے بعد نہیں آتا تو زید کو چاہئے کہ نماز سے ایک آدھ گھنٹہ پہلے ہی پیشاب سے فارغ ہولے پھراگر پیشاب کے بعدقطرہ آکر لنگی میں لگاہو تو نماز کے لیے اسے دھو ڈالےیا دوسرے پاک کپڑے پہن لے پیشاب کے بعدعضو تناسل کو پانی سے دھو کر لنگی سے پونچھ لینے سےلنگی ناپاک نہ ہوگا۔اسی لنگی کو پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے جب کہ اس میں پیشاب کے قطرے نہ لگے ہوں۔در مختار میں ہے:’’وصاحب عذر من بہ سلسل بول ان استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃمفروضۃ و لو حکما و ھذا شرط العذر فی حق الابتداءو فی حق البقاءکفی وجودہ فی جزء من الوقت ولو مرۃ وفی حق الزوال یشترط استیعاب الانقطاع تمام الوقت حقیقۃ و حکمہ الوضوء لکل فرض ثم یصلی بہ فیہ فرضا و نفلافاذا خرج الوقت بطل‘‘ (ج:۱،ص:۵۰۴،ملتقطا)ردالمحتار میں ہے ’’و من کان بطئ الاستبراء فلیفتل نحو ورقۃ مثل الشعیرۃ ویحتشی بھافی الاحلیل فانھا تتشرب مابقی من اثر الرطوبۃالتی یخاف خروجھا‘‘(ج۱:ص۵۵۸:)فتاوی رضویہ میں ہے’’وعندی احسن من وضع المفتول ان یاخذ ورقۃ لھا صلابۃ مع نعومۃ کورقۃ التمر الھند فیطویہ طیا ویحتشی بھا بحیث یکون وسطہ داخلا ویبقی طرفاہ عندراس الاحلیل فانہ اجدی واحری لسدالجریان‘‘(ج:۴،ص:۳۷۰)فتاوی امجدیہ میں ہے’’اگر یہ شخص روئی وغیرہ رکھ کر قطرہ بقدرادائے فرض روک سکتا ہےتو ایسا کرنا واجب ہے بلکہ اگر رکوع سجود کرنے سے قطرہ آتے ہیں اور کھڑا یا بیٹھا رہے تو نہیں آتے توبجائے رکوع وسجود اشارہ کرے‘‘(ج۱:ص۲۹:)واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۴؍رجب المرجب۱۴۴۶ھ۵؍جنوری ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے