فتویٰ نمبر:۲۴
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہہ، مفتی صاحب قبلہ ایک مسئلہ عرض خدمت ہے کہ کوئی مسلمان قبرستان پر بیٹھ کر شراب پئےاور جوا کھیلے یا دنیا کی باتوں اورہنسی مذاق میں مشغول رہے تو اس پر حکم شرع کیا ہے نیز وہ مسلمان رہا یا کافر ہو گیا اگر کافر نہیں تو پھر ایسے گنہگار کو کوئی مسلمان کافر کہے تو اس پر حکم شرع کیا ہے جبکہ ایسے گنہگار کو کافر کہنے والے کو ایک عالم دین بار بار سمجھا رہا ہے کہ ایسا کرنے والامسلمان گناہ عظیم و گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے لیکن کافر نہیں لیکن انہیں کافر کہنے والا اپنی بات پر اٹل ہے کہ وہ کا فر ہے تو امر طلب ایں کہ ایسے گنہگاروں کو کافر کہنے والے پر حکم شرع کیا ہے ؟ بینوا عند الناس و توجروا عند اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المستفتی:عبد الله ،لوہتہ ،بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
شراب پینا ،جوا کھیلنا سخت حرام وگناہ ہے، اوربلا ضرورت دنیاوی باتوں میں مشغول ہونا، یونہی ہنسی مذاق کرنا بھی شان مومن نہیں، اور پھریہ ناجائز امورقبرستان میں خاص قبور پر بیٹھ کر انجام دینا اور سخت گناہ و حرام و موجب غضب رحمٰن ہے،کہ اس میں حق میت کاتلف ہے۔ یونہی ایذا میت بھی ہے اور یہ دونوںباتیں ناجائزوحرام ہیں۔فتاوی عالمگیری میںہے: ’’و يكره أن یبني على القبر ویقع او نیام عليه أویطاء عليه أویقضی حاجة الانسان من بول أو غائط‘‘ (ج:۱،ص:۲۲۷)ردالمحتارمیں ہے:’’ لأن المیت یتأذی بما یتأذی بہ الحی‘‘(ج:۱،ص:۵۵۶)پس صورت مسئولہ میںشخص مذکور سخت حرام وگناہ کا مرتکب ہے تاہم وہ کافر نہیں،پھر ایسے شخص کو کافر کہنا جو کہ کا فرنہیںخودسخت اشدگناہ کبیرہ ہے،کا فرکہنے والےکو تجدید اسلام ونکاح کرنا چاہیئے،فتاوی رضو یہ میں ہے’’ بغیر ثبوت وجہ کفر کے مسلمان کو کافر کہنا سخت عظیم گناہ ہے،بلکہ حدیث میںفرمایاکہ وہ کہنا اسی کہنےوالےپرپلٹ آتاہے‘‘(ج۲۲:ص۵۹۳:)نیز اسی میںہے’’جو تعزیہ کونا جائزکہےاس بنا پر اسے کا فریا مرتدکہنااشد عظیم گناہ کبیرہ ہے،کہنےوالےکوتجدیداسلام ونکاح چاہیے۔‘‘(ج:۲۴،ص:۵۰۱)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۱؍شوال۱۴۴۵ھ۲۱؍اپریل۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
