فتویٰ نمبر:۱۴
کیا فرماتے ہیں علماےدین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید (عالم دین)نےاپنےناناکی طرف خودکومنسوب کرتے ہوئے کہا کہ میںان کی (نام ذکر کیا)اولادہوںاور یہ جملہ مختلف مواقع پر کہتا رہا ہے اس پربکر(عالم دین)نےکہا کہ ایساکہنا صحیح نہیںہے۔زیداگراس وجہ سےکہتاہےکہ وہ میرےباپ ہیںاورمیںان کی اولادہوںتویہ حرام ہےکیونکہ اپنے باپ کے علاوہ کی طرف خود کو منسوب کرتے ہوئے یہ کہنا کہ میں ان کی اولاد ہوں حرام ہے۔ اور اگر زید یہ سوچ کر کہ اس کا نسب اس کے نانا سے ہے کیونکہ وہ ان کی بیٹی کا بیٹا ہے تو یہ جائز نہیں کہ شریعت میں نسب باپ سے چلتاہے ماںسے نہیں لہٰذا ماںکی طرف سےنسب لیتے خود کو ناناکی اولادکہناجائزنہیںزیدکافی عرصہ سے ایسا کہتا رہاہےلہٰذااس کےمتعلق حکم شرع بیان فرمائیں،پھر بکرنےزیدکواس بات پرتنبیہ کی توزیدنےکہاکہ اس کی نیت یہ تھی کہ وہ ان کانواسہ ہے یا ان کی بیٹی کا بیٹاہےاورزیادہ تر لوگ جانتےہیںکہ وہ ان کانواسہ ہےتوبکرنےکہاکہ زیدجب کہےگاکہ میںان کی اولادہوںاس سےذہن فوراًاسی طرف جاتاہےکہ زیداپنےآپ کواپنےباپ یاداداکی اولادبتارہاہے جیساکہ جواس بارےمیںنہیںجانتےہیںوہ یہی سمجھیںگےکہ زیداپنےآپ کواپنےباپ یاداداکی طرف منسوب کررہاہےپھربکرنے یہ کہاکہ یہاںنیت کااعتبارنہیں کیونکہ یہ کہنا کہ میںان کی اولاد ہوں فوراًذہن باپ کی طرف جائےگا۔ زیددل میںکیانیت کررہاہےیہ سننےوالوںکوکیامعلوم نیزباپ داداکا نسب ہوتےناناکی طرف منسوب کرتےہوئےیہ کہناکہ میںان کی اولادہوںکہنےکی حاجت نہیںہاںاگرزیدیہ کہےکہ میںان کانواسہ ہوںیاان کی بیٹی کابیٹا ہوںکوئی حرج نہیںلہٰذاعلماءاہل سنن سےگزارش ہےکہ اس میںشرعی رہنمائی فرمائیں،بینواتوجروا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المستفتی:حافظ محمد اسلم رضوی، بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں زید کا اپنے آپ کو نانا کی اولاد سےبتانا شرعاکوئی قباحت نہیں رکھتاکہ عرف و عادت اوراصطلاح فقہا میںنواسے پر بھی اولادکااطلاق ہوتاہے،بحر الرائق میں ہے ’’لايجوزالدفع إلى أبيه وجده وإن علا‘‘( ج:۲،ص:۴۲۵)حاشيۃالطحطاوی علی الدرمیںہے:’’ لايجوزالصرف إلى الوالد وإن علا من جهةالأباء والأمھات‘‘ (ج:۳ص:۲۷۹)بہارشریعت میںہے’’اپنی اصل یعنی ماںباپ ،دادادادی،نانا نانی و غیرہم جن کی اولادمیںیہ ہے۔اور اپنی اولادبیٹا بیٹی،پوتا پوتی ، نواسانواسی و غیرہم کوزکاۃنہیںدےسکتا‘‘(ج:۱،ص:۹۲۸)ہاںشریعت طاہرہ میںتبدیل نسب پر سخت وشدیدوعیدیںواردہیں،اوریہ اس وقت ہےکہ اپنےحقیقی باپ کےعلاوہ کسی اورکواپناحقیقی باپ کہےیااپنےحقیقی باپ سےنسب کاانکارکرے،شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتےہیں’’جان بوجھ کراپنےنسب کوبدلناحرام وگناہ ہے،نسب بدلنےکی دوصورتیںہیں۔ ایک نفی یعنی اپنےباپ سےنسب کاانکار کرنا، دوسرے اثبات یعنی جوباپ نہیںاسےاپناباپ بتانادونوںحرام ہیں۔‘‘(نزہۃالقاری ج:۴،ص:۴۹۶،مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور) والله تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۷ ؍ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھ ؍ ۱۲ ، نومبر ۲۰۲۳ ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
