زکوة کے مسائل

بطورامانت رکھی ہوئی زکاۃ کی رقم کواپنے مصرف میں صرف کرکےدوسری رقم سے زکاۃ دیاتوزکاۃ اداہوئی یانہیں؟

فتویٰ نمبر:۱۵

کیا فرماتے ہیںمفتیانِ عظام کہ اگرکسی کی امانت میں زکاۃ کی رقم دی جائے پھروہ اپنے اوپرخرچ کردے اس کے بعد اپنی ذاتی رقم کو اس کی جگہ لوٹائے توایسی صورت میں زکاۃ کی ادائیگی ہوگی یانہیں؟اگرنہیں ہوگی تو ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟
المستفتی:محمدنورالدین نوری امجدی ،مسلم پورہ،کٹواں ،بنارس

صورت مسئولہ میں زکاۃ دینے والے کی زکاۃ ادانہ ہوگی،اداکی صورت یہ ہے کہ امین بطورتاوان اتنی ہی رقم مذکی کو اداکرے اورمذکی دوبارہ زکاۃ دے،ردالمحتار میں ہے:’’الوکیل بدفع الزکاۃ اذاأمسک دراھم المؤکل ودفع من مالہ لیرجع ببدلھافی دراھم المؤکل صح،بخلاف مااذاأنفقھا اولا علی نفسہ مثلا،ثم دفع من مالہ فھو متبرع ‘‘ (ج:۳،ص:۱۸۹)بہارشریعت میں ہے:’’زکاۃ دینے والے نے وکیل کوزکاۃ کا روپیہ دیا وکیل نےاسے رکھ لیا اور اپناروپیہ زکاۃ میں دے دیا تو جائز ہے،اگریہ نیت ہو کہ اس کے عوض مؤکل کا روپیہ لے لے گااوراگروکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالابعد کو اپنا روپیہ زکاۃ میں دیا تو زکاۃ ادانہ ہوئی بلکہ یہ تبرع ہے اور مؤکل کو تاوان دےگا۔‘‘ (ج:۱،ص:۸۸۸)۔واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۰؍ جمادی الثانی ۱۴۴۵ھ؍ ۲۴؍دسمبر ۲۰۲۳ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے