گھریلو مسائل

عورت کے میکےوالے دیوبندی ہوں تو عورت کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟

فتویٰ نمبر:۸

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ سنی گھرانہ میں ایک عورت کا انتقال ہوا جس کا شوہر سنی ہے تمام بچے سنی اور مسلک اعلیٰ حضرت کے ماننے والے ہیں لیکن اس عورت کا میکہ دیو بندی کے یہاں تھا۔آج سے تقریبا چالیس سال پہلے اس عورت کا نکاح سنی خاندان میں ایک سنی سے ہوا تھا ،لیکن اس کا آنا جانا اپنے والدین (دیوبندی) کے یہاں بدستور قائم رہا اس عورت کے گھر والوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ نیاز فاتحہ اور بزرگان دین کے اعر اس کا بہت اہتمام کرتی تھیں اور بارہویں شریف پر اپنے بچوں کا نیا کپڑا وغیرہ بنوانا یہ سب معمول تھا اور کسی طرح کا کوئی کفر بھی اس سے ثابت نہیں۔اب جبکہ اس عورت کا انتقال ہوا تو کچھ لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی اور کچھ نے نماز پڑھنے پڑھانے سے منع کر دیا، جبکہ نماز جنازہ ایک سنی امام نے پڑھائی۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مذکورہ عورت کی نمازہ جنازہ پڑھنا جائز تھا کہ نہیں اور جن لوگوں نے نماز پڑھی پڑھائی وہ ثواب کے مستحق ہیں یا گنہ گار ہوئے؟اور جس امام نے نماز جنازہ پڑھائی اس پر کوئی حکم شرع ہو تو اسے بھی بیان کر دیں۔
المستفتی : غلام محمدبنارس

الجواب بعون الملک الوھاب

دیابنہ اپنے عقائد باطلہ شنیعہ و قبیحہ مثل حضور ﷺ کی خاتمیت زمانی کا انکار، حضور علیہ السلام کے علم غیب کا انکار اور شان خدا و رسول جل وعلا و صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی و بے ادبی کرنے کےسبب کافر و مرتدہیں، جو ان کے عقائد ملعونہ پر اطلاع یقینی رکھنے کے باوجود انہیں مسلمان جانے یا کم از کم ان کے کافرہونے میں شک کرے وہ بھی انہیں کی طرح کافر و مرتد ہےکہ علماءحرمین طیبین نے باتفاق رائے کبرائے دیابنہ کے متعلق یہی فیصلہ صادر فرمایا ’’من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر‘‘یعنی جو ان کے کفر وعذاب میں بھی شک کرے وہ بھی کافر و مرتد ہے،
تو اگر مذکورہ عورت دیوبندیوںکےعقائد قبیحہ کو جاننےکے باوجود ان کو مسلمان جانتی تھی ،ان سے راہ ورسم رکھتی تھی تو وہ بھی انہیں کی طرح کافر و مرتد ہوئی،مگر جب تک اس امر کا ثبوت شرعی یقینی نہ ہولے کہ عورت مذکورہ دیابنہ کے کفری عقائد پر اطلاع کے بعد بھی انہیں مسلمان جانتی تھی یا ان کے کفر میں شک کرتی تھی تب تک فقط ظن وتخمین اور دیوبندیوں سے راہ ورسم رکھنے کی بنیاد پر گو کہ دیابنہ سے ربط وتعلق رکھنا ناجائز وحرام اور کار بد انجام ہے اسے کافرو مرتد کہنا ہرگز روا نہیں،خصوصا جبکہ وہ معمولات اہل سنت مثل نیاز و فاتحہ ،اعراس بزرگاں،بارہ ربیع النور شریف کے موقع پر اظہار مسرت کرنا جن سےدیابنہ غایت درجہ اجتناب و احتراز کرتے ہیں پر کار بند تھی، کہ امام اہل سنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے معمولات اہل سنت پر عامل و کاربند رہنے والے سے دیوبندیت کی نفی فرمائی ہے،چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے’’جب وہاں میلاد شریف اورسوم وغیرہ کرنےوالےبکثرت ہیں تو ضروروہ لوگ دیوبندی نہیں ‘‘(ج:۶،ص:۵۸۳،مترجم)بہار شریعت میں ہے’’اب اس زمانہ میں کسی خاص شخص کی نسبت قطع کے ساتھ منافق نہیں کہا جاسکتاکہ ہمارے سامنے جو دعوئ اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمھیں گے جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو منافی ایمان ہےنہ صادر ہو‘‘(ج:۱،ص:۱۸۲)پس جس صورت میں عورت مذکورہ پرکفرکاحکم نہیں اس صورت میں اس کی نمازجنازہ پڑھنا،پڑھاناجائزورواتھااوراس کی نمازجنازہ پڑھانےوالےامام مسجدپربھی کچھ الزام عائدنہیں ہوتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۳؍ربیع الآخر ۱۴۴۵ھ۲۸؍اکتوبر۲۰۲۳ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے