گھریلو مسائل

نابالغ بچوں سے چندہ کرانا کیساہے؟

فتویٰ نمبر:۶

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ ذیل میں کہ اراکین مسجد نے زید کو چندے کے لئے رسید دیا تاکہ وہ اس کے ذریعے چندہ اتارے اور اس کے چندہ اتارنے پر اس کے لئے کچھ نفع بھی رکھا لیکن زید خود چندہ نہیں اتارتا بلکہ اپنے نا بالغ بچوں سے چندہ اترواتا ہے زید کا ایسا کرنا کیسا ہے ؟ اور نا بالغ بچوں سے کوئی چندے کا پیسہ زبردستی لینا چاہے تو وہ اس کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے ،(۲) اور نا بالغ بچوں کو مساجد اور مدرسوں کا چندہ اتارنا کیسا؟ (۳) اور نا بالغ بچوں کو چندہ دینا کیسا ؟
المستفتی : محمد مزمل رضا اسمعیلی ،کٹواں، بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب

اگر نا بالغ بچہ عقل و شعور رکھتا ہو اور لوگوں کو اس پر اعتمادو یقین ہو تو اس سے چندہ کرانا اور اسے چندہ دینا کوئی حرج نہیں رکھتا ،
فتاویٰ ھندیہ میں ہے:’’ فلا تصح وکالۃ الصبی الذی لا یعقل ، و اما البلوغ والحریۃ فلیسا بشرط لصحۃ الوکالۃ فتصح وکالۃ الصبی العاقل و العبد ‘‘ (ج: ۳، ص: ۳۷۸)
بہار شریعت میں ہے:’’ توکیل کے لئے وکیل کا عاقل ہونا شرط ہے یعنی مجنوں یا اتنا چھوٹا بچہ جو لا یعقل ہو وکیل نہیں ہو سکتا ، بلوغ اور حریت اس کے لئے شرط نہیں یعنی نا بالغ سمجھ وال کو اور غلام محجور کو بھی وکیل بنا سکتے ہیں۔‘‘ ( ج :۲، ص: ۹۷۷ ) و اللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

۶؍ربیع الآخر ۱۴۴۵ھ۲۲؍اکتوبر۲۰۲۳ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے