فتویٰ نمبر:۵۰
کیا فرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ میں کہ مرغی مرغا ذبح کرنے والے دکاندار اپنے من میں یا زبان سے پڑھتے ہیں تو اتنی آواز نہیں ہوتی کہ خود سن سکے تو ایسی صورت میں مرغ مرغا حلال ہوگا یا حرام؟باحوالہ دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ۔
المستفتی:عرفان رضا
الجواب بعون الملک الوھاب
وقت ذبح ذابح کااتنی آواز سے تسمیہ پڑھنا ضروری ہے کہ شور و غل نہ ہوتو وہ خود سن سکے ،اور اگر اتنی بھی آواز نہ ہوتو ذبیحہ حلال نہ ہوگا،پس صورت مسئولہ میں جبکہ اتنی آواز بھی نہ ہو کہ ذبح کرنے والے خود سنے تو ذبیحہ حرام و مردار ہوگا ،یہ نہایت ہی اھم مسئلہ ہے اورلوگ اس سے غافل ہیں ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’فان صحح الحروف بلسانہ ولم یسمع نفسہ لایجوز وبہ اخذعامۃ المشائخ ھکذا فی المحیط وھو المختار،ھکذافی السراجیۃ وھو الصحیح ،ھکذا فی النقایۃ وعلی ھذانحو التسمیۃعلی الذبیحۃ‘‘(ج:۱،ص:۱۲۷،زکریاجدید)در مختار میں ہے: ’’وادنی المخافتۃ اسماع نفسہ ویجری ذلک المذکور فی کل مایتعلق بنطق،کتسمیۃ علی ذبیحۃ‘‘ (ج:۲،:ص:۲۵۳،زکریا)بہار شریعت میں ہے ’’آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ہونا ضروری ہے کہ خود سن سکے،اگر حروف کی تصحیح تو کی مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنااور کوئی مانع مثلاشور وغل یا ثقل سماعت بھی نہیں تو نمازنہ ہوئی ،یونہی جس جگہ کچھ پڑھنا یاکہنا مقرر کیا گیاہے،اس سے یہی مقصد ہے کہ کم سےکم اتنا ہو کہ خود سن سکے مثلا طلاق دینے ،جانور ذبح کرنےمیں‘‘(ج:۱،ص:۵۱۱؍۵۱۳)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۹؍جمادی الاخری۱۴۴۶ھ۲۲؍دسمبر۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
