فتویٰ نمبر:۸۱
کیا فرماتے ہیں علماےدین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ چار رکعت والی نماز کی نیت کی تھی مگر دو رکعت پورا کرنے کے بعد قعدۂ اولیٰ میں بیٹھنا بھول گیا اور یکے بعد دیگرے چار رکعت پوری کی پھر قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد سجدۂ سہو کیا ایسی صورت میں کیا حکم شرع ہوگا، کیا تیسری رکعت پوری کرنے کے بعد تشہد کے لیے بیٹھنا درست ہے؟
المستفتی :مطیع الرحمٰن حسرتؔ وحیدی
رحیم پور، لوہتہ، بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں جب کہ بھول کر قعدہ اخیرہ ترک ہوا اور اخیر میں سجدۂ سہو کیا کر لیا تو نماز صحیح و درست ہو گئی اور قعدۂ اولیٰ ترک ہونے کی صورت میں تیسری رکعت میں تشہد کےلیے بیٹھنے کی اجازت نہیں، اگر بیٹھے گا تو ترک واجب ہوگا، فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’ منھا القعدۃ الاولیٰ حتیٰ تلو ترکھا یجب علیہ السھو کذا فی التبیین‘‘ (ج:۱، ص: ۱۸۶)ردالمحتار میں ہے: ’’و کذا القعدۃ فی آخرالرکعۃ الاولیٰ اوالثالثۃ فیجب ترکھا و یلزم من فعلھا ایضا تا خیرالقیام الی الثانیۃ او الرابعۃ عن محلہ‘‘(ج:۲، ص: ۱۶۴) بہار شریعت میں ہے: ’’ فرض میں قعدۂ اولیٰ بھول گیا تو جب تک سیدھا کھڑا نہ ہوا لوٹ آئے اور سجدۂ سہو نہیں اور اگرسیدھا کھڑا ہوگیا تو نہ لوٹے اور آخر میں سجدۂ سہو کرے ۔‘‘ (ج: ۱،ص: ۷۱۲) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۱؍ربیع الثانی۱۴۴۷ھ۱۴؍ستمبر۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
