فتویٰ نمبر:۷۰
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ، ایک شخص کی شادی ایک لاکھ دین مہر کے شرط پر ہوئی شوہر نے پہلی ہی رات میں دین مہر کی رقم کو اپنی بیوی سے معاف کرا لیا ، شادی کے ایام ہنسی خوشی گزررہے تھے پھر دونوں میں نا اتفاقیاں شروع ہو گئیں اور اختلافات اتنے بڑھ گئے کہ نوبت طلاق تک پہنچ گئی، اور شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دے دی ، زید معلوم کرنا چاہتا ہے کہ جو دین مہر شوہر نے معاف کرالیا تھا ، کیا وہ رقم بعد طلاق شوہر پراداکرنا واجب ہے؟
المستفتی:محمد مطیع الرحمٰن ، بنارس ، لوہتہ، بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
عورت نے جب اپنی خوشی سے مہر معاف کر دیا تو اب وہ اس رقم کی مستحق نہیں، در مختار میں ہے:’’ صح الحط لکلہ او بعضہ‘‘ (ج:۴، ص:۲۴۸) فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’ وان حطت عن مھرھا صح الحط کذا فی الھدایہ لا بد فی صحۃحطھا من الرضا حتیٰ لو کانت مکرھۃ لم یصح‘‘ (ج:۱، ص:۳۸۰) بہارشریعت میں ہے: ’’ عورت کل مہر یا جز معاف کرے تو معاف ہو جائے گا بشرطیکہ شوہر نے انکار نہ کردیا ہو۔ (ج:۲، ص:۶۸) فتاوویٰ امجدیہ میں ہے: ’’ جب برضا و رغبت معاف کردیا تو معاف ہو گیا اور اب وہ مستحق نہ رہی۔ (ج:۲،ص:۱۴۳) نیز اسی میں ہے: زوجہ عمرو نے مہر معاف کردیا تو معاف ہو گیا ، اس کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ (ج:۲، ص: ۱۴۷) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۳؍ محرم الحرام ۱۴۴۷ھ ؍ ۲۹؍ جون ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ،
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
