فتویٰ نمبر:۴۹
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایساکلپ یا ٹپ ٹاپ لگانا جس کی بناوٹ لوہے کی ہوتی ہے اور اس پر پینٹ چڑھا دیتے ہیں جس سے لوہا دکھائی نہیں دیتا اور آج کل دوپٹے میں حجاب پن لگایا جاتا ہے جو لوہے یا اسٹیل کا ہوتا ہے۔ان کو لگانا کیسا ہے ؟اور ان کو لگا کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے، نیز ان دھاتوں سےبنے ہوئے نعلین پاک کا نقشہ عمامہ اور جبے پر لگانا کیسا ہے؟
المستفتیہ:سعدیہ سلطانہ
ساکنہ:بجرڈیہہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات مثلا لوہا،تانبا،پیتل وغیرہ کا پہننا مرد وعورت دونو ںکے لئے ناجائز وحرام ہیں۔مگر عورتوں کابالوں میں لوہے کی کلپ لگانا جائز و روا ہے کہ اس کا مقصد بالوں کا روکنا اوریکجا کرنا ہے تو وہی مقصود نہیں بلکہ اس کی حیثیت تابع کی ہے،تو جیسے سونے چاندی اور دیگر دھاتوں کے بنے بٹن کا استعمال جائز و روا ہے کہ تابع لباس ہے یونہی کلپ کا استعمال بھی جائز ہے۔در مختار میں ہے ’’لا باس بعروۃ القمیص و زرہ من الحریر لانہ تبع وفی التاترخانیہ عن السیر الکبیر لاباس بازرار الدیباج والذھب‘‘(ج:۹،ص:۵۱۱)فتاوی رضویہ میں ہے ’’سونے چاندی کے بوتام بطور مذکور لگانے جائز ہیں‘‘ (ج۲۲:ص۱۳۱:) اسی طرح حجاب پن کا لگانا بھی جائز ہے کہ وہ طابع حجاب ہے ۔در مختار میں ہے ’’حل مسمار الذھب فی حجر الفص ‘‘رد المحتار میں ہے ’’لانہ تابع کالعلم فی الثوب فلا یعد لابسا لہ‘‘(ج:۹،ص:۵۱۹) اور رہا دھاتوں کے بنے نقش نعلین پاک کا عمامے وغیرہ پر لگانا تو اس سے احتراز ہی چاہئےکہ علامہ شامی اگر چہ اسے مشابہ لبس نہیں کہتے مگر امام اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو پہننے کے مشابہ نہ ہونے میںتامل ہے،در مختار میں ہے’’وتکرہ التکۃ منہ ای من الدیباج وکذا القلنسوۃ و ان کانت تحت العمامۃ والکیس الذی یعلق‘‘اسی کے تحت رد المحتار میں ہے: ’’والظاھر فی وجھہ ان التعلیق یشبہ اللبس فحرم لذالک لما علم ان الشبہتہ فی باب المحرمات ملحقۃ بالیقین۔والظاھر ان المراد بالکیس المعلق نحو کیس التمائم المسمٰی بالحمائل فانہ یعلق بالعنق بخلاف کیس الدراھم اذا کان یضعہ فی جیبہ مثلا بدون تعلیق ۔وفی الدر المنتقی :ولاتکرہ الصلاۃعلی سجادۃمن الابریسم لان الحرام ھو اللبس ، اما الانتفاع بسائر الوجوہ فلیس بحرام۔قلت:و منہ یعلم حکم ماکثرالسوال عنہ من بندالسبحۃفلیحفظ۔بقی الکلام فی بندلاساعۃ الذی تربط بہ ویعلقہ الرجل بزرثوبہ،والظاھر انہ کبند السبحۃ الذی تربط بہ :تامل ‘‘(ج:۹،ص:۵۱) ’’تامل‘‘کے تحت جدالمحتار میں ہے: ’’فانہ موضوعہ ،فلعل للتعلیق بالزر نوع شبہ باللبس بخلاف بند السبحۃ فلیحرر،واذا کان کذلک کان فی اباحۃ من النحاس ونحوہ ایضا تامل فتامل‘‘ (ج:۷،ص:۹۶)فتاوی رضویہ میں ہے:’’اگر تانبا غالب ہے تو اس میں اور ریشم کی چین میں جبکہ وہ انگرکھے میں نہ لگائی جائیں کوئی حرج نہیں۔رہا انگرکھے میں لگانا اگریہ لگاناپہننے کے ،کے مشابہ ٹھرےتو مکروہ ہوگا۔اور اگر پہننے کے مشابہ نہ ٹھرے تو اس میں حرج نہ نماز میں کراہت ۔علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا کلام اسی طرف ناظرکہ یہ پہننے کے مشابہ نہیں مگر فقیر کو اس میں تامل ہے اور وہ خود بھی اس پر جزم نہیں رکھتے اور اسے لکھ کر تامل کا حکم فرماتے ہیں تو بہتر اس سے احتراز ہی ہے‘‘(ج۲۲:ص۱۵۲:)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۱۲؍جمادی الاخری۱۴۴۶ھ۱۵؍دسمبر۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
