فتویٰ نمبر:۲۵
بچے کےوالدین کافر ہوں تو اس کی جنازہ کا کیاحکم ہے؟
السلام عليکم ورحمۃ الله وبرکاتہ، کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ زیدبے اولاد تھا اس نے ایک غیر مسلم کے تین روزہ بچے کو اپنی پرورش میں لیا اور زید کی بیوی نے اسے دودھ پلایا پھر وہ دو ماہ کے اندر بیمارپڑ گیا اورفوت ہو گیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا کیسا ہے ؟
المستفتی: غلام از ہری رضا اسمعیلی ،کٹواں مسلم پورہ بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
ناسمجھ بچے اپنے والدین کےتابع ہوتے ہیں،اگر والدین یا ان میںسے کوئی مسلمان ہو تو بچہ مسلمان مانا جائے گا ورنہ نہیں۔ اورچونکہ صورت مسئولہ میں اس بچے کے والدین غیر مسلم ہیں تو فقط زید کی پرورش میں آجانے سے اور اس کی بیوی کے دودھ پلانے سے اس بچے پر حکم اسلام جاری نہ ہوگا، لہذا جب وہ بچہ نا سمجھی کی عمر میںفوت ہو گیاتو اس کے غیر مسلم والدین کی تبعیت کےسبب اسے کا فرہی جانا جائے گا۔ اور اسکی نماز جنازہ اوراسےمسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔بحرالرائق میں ہے:’’لایصلی علیہ لانہ تبع لھما للحديث کل مولود یولد علی الفطرة فابواه یہودانه الى اخره‘‘
(ج:۲،ص:۳۳۱)درمختار میں ہے:’’لايصلى عليه لأنه تبع له أی في أحكام الدنیالاالعقبٰی‘‘(ج:۳،ص:۱۳۲)فتاوی امجدیہ میں ہے’’نابالغ سمجھدار ہے تو اس کا اسلام معتبرہے اور ناسمجھ ہے تو خیرالابوین کا تابع ہے اس میں دیگر ورثاء کا اعتبار نہیں،لہذا اگر اس کے والدین کفریہ عقائد رکھتے ہوں اور وہ بچہ نا سمجھ ہو تو جنازہ میں شرکت نا جائز۔‘‘(ج:۱،ص:۳۱۵)بہار شریعت میں ہے ’’چھوٹےبچے کے ماں باپ دونوں مسلمان ہوں یا ایک تو وہ مسلمان ہے اس کی نماز پڑھی جائے اور دونوں کا فرہیں تو نہیں۔‘‘(ج:۱،ص:۸۲۶) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۵؍شوال۱۴۴۵ھ۵؍مئی۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
