متفرقات

شیعوں کے ساتھ کھان پان رکھنے والے کی اذان وامامت کاحکم

کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام درج ذیل مسائل میں:
(۱)زید ایک مسجد کا مؤذن ہےاورکبھی کبھی امام کی غیرموجودگی میں نماز بھی پڑھاتا ہے جب کہ وہ مسائل نمازسے ناواقف ہےاوراسےقرآن شریف بھی صحیح سے پڑھنا نہیں آتابلکہ تجویدپڑھی ہی نہیں ہے اس کے علاوہ زید ایک شیعہ سے دوستی رکھتا تھااس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا کھاتا پیتاتھاحتی کہ بسااوقات خود اس شیعہ سے دعوت بھی طلب کرتا تھا اس کے یہاں شادی بیاہ میں شرکت کرتا تھا اس درمیان اذان بھی دیتا اورنماز بھی پڑھاتا تھااوراب بھی اذان دے رہاہے محلے کے نوجوانوں میں کافی کھلبلی مچی ہوئی ہے ،تو ایساشخص اذان وامامت کے لائق ہے یانہیں ؟اس کے پیچھے نماز ہوگی یانہیں؟
(۲)بکر ایک مسجد کا امام ہے اس کی بھتیجی ہندہ ایک شیعہ لڑکے سےبات کرتی تھی گھروالوں نے ہندہ کوخوب سمجھایا لیکن ہندہ نہیں مانی بکر ہندہ کے چچا(امام مسجد)نے اس کو لے جاکر اس شیعہ لڑکے کے گھرچھوڑ دیااوریہ کہاکہ اسے رکھیے یہ اب آپ کی ہے ہندہ اپنے گھروالوں کےسامنے شیعہ لڑکے کےساتھ گئی لیکن گھروالوں نے نہ ہی اس سے کچھ کہا اور نہ ہی اسے روکا بکراب بھی مسجد میں نماز پڑھاتا ہےنیز بکر نمازیں پابندی سے نہیں پڑھتا توبکر اوراس کے گھر والوں پر شرعاً کیا حکم ہوگا؟اور اس کے پیچھے نماز ہوگی یانہیں ؟
(۳) خالد شیعہ ہے اس کے والدکا انتقال ہوا اس نے اپنے گھرایصال ثواب کی خاطر قرآن خوانی کی تقریب رکھی محلے کے کچھ سنی حضرات نے بھی اس قرآن خوانی کی تقریب میں شرکت کی تو شرکت کرنےوالوں پر شریعت کی جانب سے کیا حکم ہے؟

المستفتی :مصلیان مسجد حبیبیہ قادریہ
ساکن :محمودپورلوہتہ بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسئولہ میں زید لائق اذان وامامت نہیں کہ جب وہ مسائل نماز سے ناواقف ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ کوئی ایسی غلطی کرے جو مفسد نماز ہواور زید عدم علم کے سبب اس کی اصلاح نہ کر سکے ،یونہی جبکہ وہ قرآن پاک درست نہیں پڑھتا تو اس سے ایسی غلطی ہوسکتی ہے جس سے فساد معنیٰ ہو جو مفسد نماز ہے بلکہ اگر وہ ادائیگی حروف میں تمیز نہ رکھتا ہواورنہ ہی حتی الوسع تصحیح حروف میں کوشش کرتا ہو تو اس کے پیچھے نماز ہی نہ ہوگی۔پھر زید کا کسی رافضی سے میل جول،اتحادودوستی،اس سے دعوت کا مطالبہ ،اس کی شادیوں میں شرکت کرنا فعل حرام وگناہ وموجبِ فسق ہےاورفاسق معلن کی امامت مکروہِ تحریمی جب تک کہ وہ علی الاعلان توبہ ورجوع نہ کرے،الغرض ایسے کوامام بناناگناہ،اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی واجب الاعادہ ہے، فتاویٰ رضویہ میں ہے :
’’جو شخص مسائل نماز سے جاہل ہو اس کی امامت میں احتمال قوی نماز کے فساد وخرابی کا ہے کہ اس سے اکثر باتیں ایسی واقع ہوں گی جن سے نماز فاسد ہوجائے گی یا اس میں نقصان آئے گا۔ اور بسبب جہالت کے اُن پر مطلع نہ ہوگا اور اُن کی اصلاح نہ کرسکے گا اسی طرح جو شخص مخارج وصفات و حروف و قواعد تجوید سے آگاہ نہ ہو عجب نہیں کہ اُس کے پڑھنے میں قرآن میں ایسا تغیّر واقع ہوجائے جو بالاتفاق یا ایک مذہب پر موجب فسادنماز کا ہو کیا بلا ضرورت ایسے شخص کو امام کرنا نماز میں کہ عماد اسلام وافضل اعمال ہے بے احتیاطی اور امر شرع میں مداہنت و سہل انگاری نہیں‘‘(ج:۶،ص:۴۴۴،مترجم)نیز اسی میں ہے :’’امام بنانے کےلئے فقط سنی تصور کرنا ہی کافی نہیں بلکہ فاسق معلن نہ ہونا ضرور ہے اس کی حالت دیکھی جائے اگر رافضیوں سے میل جول خلا ملا دوستی اتحاد کے برتاؤ کرتاہے تو اگر رافضی نہیں تو کم از کم سخت فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اسے امام بنانا گناہ ، اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہوں ان کا پھیرنا واجب۔‘‘(ج:۶،ص:۵۳۷،مترجم)
(۲)روافض زمانہ علی العموم کافرومرتدہیں ان سے نکاح حرام وگناہ اورخالص زناہے ،اپنی بیٹی بھتیجی وغیرہ کو روافض کویوں پیش کردیناسخت فسق وحرام وگناہ ہے ،اوریونہی نماز کا ترک کرنا بھی سخت و شدید حرام وگناہِ عظیم ہےپس صورت مسئولہ میں لڑکی کے گھر والے اوربکر مذکورمرتکب حرام وگناہ اورسخت فاسق ودیوث ہیں ۔ان سب پر توبہ ورجوع لازم ہے۔بکر کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے:’’زن زید کی نسبت جو لکھا گیا ہے اگر برضائے زید ہے یا زید بقدر قدرت بندوبست نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث سخت اخبث فاسق ، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ‘‘(ج:۶،ص:۵۸۳،مترجم)
(۳)روافض زمانہ کافرہیں ان کی تقریبات میں شرکت ناجائز وحرام ہے،پس صورت مذکورہ میں اگرخالد رافضی کا باپ بھی رافضی تھا تو اس کی فاتحہ خوانی میں شرکت کرنے والے فعلِ حرام کے مرتکب ہوئے توبہ کریں اوراگرباپ کے رافضی ہونے پر مطلع تھے توتوبہ کے ساتھ تجدیدِایمان کریں اوربیوی رکھتے ہوں توتجدیدنکاح بھی کریں ۔فتاویٰ رضویہ میں ہے:’’کافر کے لیے دعائے مغفرت وفاتحہ خوانی کفرخالص وتکذیبِ قرآنِ عظیم ہے کمافی العالمگیریہ وغیرھا‘‘ (ج:۲۱،ص:۲۲۸،مترجم)۔واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

۷ ؍شوال المکرم ۱۴۴۵ھ؍۱۴؍اپریل ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

 
 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے